مریم نواز کی ہدایت پر پنجاب کی بنجر زمینوں کو معاشی زونز اور جدید ایکوا کلچر مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے میں نمایاں پیشرفت سامنے آئی ہے۔
حکام کے مطابق صوبے میں بلیو اکانومی کے فروغ کے تحت سرگودھا، علی والا اور شاہ گڑھ میں شرمپ فارمز کے انفراسٹرکچر پر تیزی سے کام جاری ہے۔سرگودھا شرمپ فارمنگ منصوبے میں 126 میں سے 118 تالابوں کی کھدائی مکمل ہو چکی ہے جبکہ 92 فیصد پشتوں کی تعمیر بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ اسی طرح 116 ٹیوب ویلوں کی بورنگ مکمل ہو چکی ہے اور پانی کی فراہمی کے نظام کا بڑا حصہ پایہ تکمیل کے قریب ہے۔ذرائع کے مطابق 365 ایکڑ اراضی کی صفائی اور سروے مکمل ہو چکا ہے جبکہ یہ منصوبہ مجموعی طور پر 500 ایکڑ پر مشتمل ہے۔ سڑکوں، ویئر ہاؤسز اور دیگر انفراسٹرکچر پر بھی کام جاری ہے۔علی والا شرمپ اسٹیٹ میں 1267 ایکڑ میں سے 90 فیصد رقبہ کلیئر کیا جا چکا ہے جبکہ بڑی تعداد میں تالابوں کی کھدائی مکمل ہو چکی ہے۔
ڈرینج سسٹم اور روڈ نیٹ ورک پر بھی نمایاں پیشرفت رپورٹ ہوئی ہے۔شاہ گڑھ شرمپ فارم میں واٹر سپلائی 90 فیصد، الیکٹریفیکیشن 95 فیصد اور رابطہ سڑک کی تعمیر 97 فیصد تک مکمل ہو چکی ہے۔حکام کے مطابق یہ پاکستان میں سرکاری سطح پر جدید ایکوا کلچر کا پہلا بڑا منصوبہ ہے، جس کا مقصد بنجر زمینوں کو قابلِ استعمال بنانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ نے پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ٹیم کو سراہا اور کہا کہ پنجاب کو عالمی معیار کے ایکوا کلچر مرکز کے طور پر ترقی دی جائے گی۔