کراچی سے ٹرین مارچ کا آغاز،ملتان سے روڈ کارواں ر روانہ،23ستمبر کو مارچ اسلام آباد داخل ہوگا

حافظ نعیم، کل کراچی تا اسلام آباد لانگ مارچ
 لاہور سے سپر لانگ مارچ براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد میں داخل ہوگا ،کسان اتحاد، پی ٹی آئی نے تحریک کی حمایت کردی ،حکومت نے مذاکرات کیلئے جماعت اسلامی سے رابطہ کر لیا، اعلیٰ قیادت سے مشاورت کے بعد جواب دینگے: لیاقت بلوچ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم تومارچ منسوخ: امیرجماعت اسلامی کا اعلان
 لاہور،اسلام آباد،پشاور ( ،مانیٹرنگ ڈیسک،بیورو رپورٹ) جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر لاہور میں مال روڈ پر 33 روز سے جاری دھرنا ختم کرتے ہوئے کل سے کراچی تا اسلام آباد سپر لانگ مارچ کا اعلان کردیا جبکہ حکومت نے مذاکرات کیلئے جماعت اسلامی سے پھر رابطہ کر لیا ہے، جماعت اسلامی کے ترجمان کے مطابق دھرنا لانگ مارچ کی تیاریوں کیلئے ختم کیا گیا ہے، سپر لانگ مارچ کا آغاز کراچی سے ٹرین مارچ کی صورت میں ہوگا،جو21 ستمبر کو ملتان پہنچے گا ، 22 ستمبر کو ملتان سے روڈ کارواں کی صورت میں قافلے لاہور روانہ ہوں گے، 23 ستمبر کو لاہور سے سپر لانگ مارچ براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد میں داخل ہوگا ، دوسری طرف وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ سے رابطہ کرکے آج مذاکرات کی دعوت دی ہے ، تاہم لیاقت بلوچ نے کہا کہ مزید مذاکرات کے لیے امیر جماعت اسلامی اور سینئر قیادت سے مشاورت کے بعد حکومتی دعوت کا جواب دیا جائے گا، انہوں نے واضح کیا ہے لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا،دریں اثنا خیبر پختونخوا میں جلسوں سے خطاب کر تے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ہمیں احتجاج کا شوق نہیں، حکومت آج ہی پٹرولیم لیوی ختم کردے تومارچ منسوخ کر دیں گے، انہوں نے کہا کل میں کراچی سے ٹرین مارچ کے ذریعے نکلوں گا،حکومت کو تجاویز پیش کی ہیں لیکن حکومت ماننے سے انکار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہم مارچ کریں گے، اگر رکاوٹ آئی تو پھر اس رکاوٹ کو ختم کرنا ہے۔قبل ازیں اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے لانگ مارچ کا آغاز ہوگا۔ حافظ نعیم نے کہا حکومت عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے بجائے ناکافی اور نمائشی پیکیجز کا اعلان کر رہی ہے ، سپر لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے، کسان اتحاد کے رہنمائوں ،پی ٹی آئی سے رابطہ ہے۔ پی ٹی آئی نے جماعت اسلامی کی تحریک کی حمایت کی ہے اور جماعت اسلامی بھی ان کے احتجاج کی حمایت کرتی ہے۔