واشنگٹن: امریکا نے یوکرین کے فضائی دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے 2.68 ارب ڈالر کے ممکنہ فوجی پیکیج کی منظوری دے دی ہے، تاہم معاہدے کی حتمی تکمیل اور فروخت کے لیے امریکی کانگریس کا جائزہ ابھی باقی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ممکنہ فارن ملٹری سیل کے تحت یوکرین کو فضائی دفاعی نظام کی اپ گریڈیشن، متعلقہ سازوسامان اور تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی۔ پیکیج کا مقصد یوکرین کی موجودہ اور مستقبل کے فضائی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔مجوزہ پیکیج میں S-300 کلون میزائل، GAM-67 میزائل، رینج ایکسٹینڈڈ ایئر ڈیفنس لیزر گائیڈڈ راکٹ سسٹمز، موبائل لانچنگ سسٹمز اور ان کی ترمیمی کٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈرونز کے خلاف استعمال ہونے والے ریڈار سسٹمز، موبائل ریڈار تنصیبات اور دیگر متعلقہ آلات بھی پیکیج کا حصہ ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق پیکیج میں اضافی طور پر اسپیئر پارٹس، سافٹ ویئر، تکنیکی دستاویزات، مرمت و دیکھ بھال، انجینئرنگ، نقل و حمل اور لاجسٹک معاونت بھی شامل ہوگی۔
حکام کے مطابق اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس کی مالی معاونت یورپی ممالک کی جانب سے فراہم کردہ فنڈز اور سابق امریکی انتظامیہ کے دور میں مختص کیے گئے فارن ملٹری فنانسنگ (FMF) فنڈز کے امتزاج سے کی جائے گی۔ امریکی فنڈز کو امریکا اور یوکرین کے تعمیر نو کے سرمایہ کاری فنڈ میں امریکی شراکت کے طور پر شمار کیا جائے گا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ فروخت سے یوکرین کی فضائی دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور اسے موجودہ و مستقبل کے خطرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ محکمہ خارجہ کے مطابق اس معاہدے سے خطے کے بنیادی فوجی توازن میں تبدیلی متوقع نہیں اور اس پر عمل درآمد کے لیے اضافی امریکی اہلکاروں کو یوکرین بھیجنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
تاہم 2.68 ارب ڈالر کا یہ پیکیج ابھی حتمی فوجی فروخت نہیں ہے اور اسے امریکی کانگریس کے جائزے کے مرحلے سے گزرنا ہوگا۔ منظوری کے بعد ہی معاہدے کو عملی شکل دینے کا عمل آگے بڑھ سکے گا۔