آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری راستوں میں پیدا رکاوٹوں کی وجہ سے ضروری اشیا کی ترسیل، معاشی استحکام، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کو شدید خطرات لاحق ہو گئے: ڈاکٹر رانیہ المشاط
نیویارک (آئی این پی)ایران سے متعلق تنازع اور جنگ کے پہلے ہی مہینے عرب معیشتوں کو تقریبا 150 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ایران سے متعلق تنازع اور جنگ کے پہلے ہی مہینے عرب معیشتوں کو تقریبا ایک سو پچاس ارب ڈالر کا زبردست مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جو کہ خطے کی مجموعی قومی پیداوار(جی ڈی پی) کے چار فیصد کے برابر ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا(اسکوا)کی ایگزیکٹو سیکریٹری ڈاکٹر رانیہ المشاط نے اس تشویشناک صورتحال کا انکشاف کیا ہے۔ڈاکٹر رانیہ المشاط کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے بحری راستوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کی وجہ سے ضروری اشیا کی ترسیل، معاشی استحکام، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔رانیا المشاط نے اپنے خطاب میں کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری جہازوں کو لاحق خطرات صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ ترقی، ضروری اشیا کی فراہمی، معاشی استحکام، چھوٹے کاروبار اور عالمی معیشت کو بھی متاثر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خلیج سے آبنائے ہرمز اور وہاں سے بحیرہ احمر تک باب المندب کے راستے سمندر، آبنائے اور بندرگاہیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور انہی راستوں سے توانائی، خوراک اور تجارت دنیا تک پہنچتی ہے