نظریہ پاکستان سے انحراف کسی نے نہیں کیا

 حفیظ اللہ خان
قیامِ پاکستان کے بعد گزرنے والے ان 78 برسوں میں سیاسی اکابرین اور مجاہدینِ تحریکِ آزادی کے نظریات، افکار اور عملی زندگی پر بحث مسلسل جاری ہے اور یہ سلسلہ رْکتا نظر نہیں آتا۔ اصول تو یہ ہے کہ کسی بھی رہنما کو ان کی تقاریر، تحریروں اور عملی فیصلوں کی روشنی میں جانچا جائے اور یہ عمل ذاتی تشریح سے بالاتر ہو۔ مگر افسوس کہ ہمارے ہاں تاریخ کو اکثر اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے حقیقت کا چہرہ دھندلا جاتا ہے۔
یہاں پاکستان کی فکری بحث میں 11اگست 1947ء  کی تقریر کا ذکر بار بار ہوتاہے۔لہذا اس کو حتمی منشور مان کر تویہ تاریخی سیاق وسباق سے ناآشنائی اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے قبل اَز آزادی 102تقاریر اور بعد اَز آزادی مسلسل تقاریر کو نظر انداز کرنا گویا ان کے فکری مؤقف کو مسخ کرنے کے برابر ہے۔ 11اگست کی تقریر کہ آپ آزاد ہیں۔ اپنے مندروں، مسجدوں یا دوسری عبادت گاہوں میں جانے کیلئے۔ یہ اس امر کی ضمانت ہے کہ ریاست مذہبی امتیاز سے بالاتر شہری مساوات کی پابند ہوگی یہ تقریر اقلیتوں کے خوف اور خونچکاں فسادات کے پس منظر میں تھی۔ اسے سیکولر آئینی ڈھانچے کی تعبیر کہنا بدترین بددیانتی ہوگی۔
اسی مزاج کو قائد اعظم ؒنے ڈھاکہ میں(21مارچ1948ء )یوں دہرایا: ہمارے ہاں بہت سے غیر مسلم ہیں ،، مگر وہ سب پاکستانی ہیں انھیں دوسرے شہریوں کے برابر حقوق حاصل ہوں گے۔ایک اور موقع جنوری1948ء کو ،عیدمیلاد النبیؐ پر کراچی بار ایسوسی ایشن وکلاء  کی برادری سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: وہ شرارتی عناصر ہیں جوکہہ رہیہیں کہ آئین پاکستان کی بنیاد شریعت پر نہیں ہوگی۔اسلامی اصول آج بھی ہماری زندگی پر اسی طرح لاگوہیں جس طرح تیرہ سو سال قبل تھے۔یہ قائد اعظم ؒ کی براہ راست آئینی سمت بندی تھی جسے کبھی بھی سیکولرازم کے کھاتے میں نہیں ڈالا جاسکتا۔اسی طرح جولائی 1948ء  کو سٹیٹ بینک کے افتتاح پر آپ نے فرمایا: میں دلچسپی سے اس امر کا انتظار کروں گا کہ آپ کا شعبہ تحقیق، بینکاری کے طور طریقوں کو معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات سے ہم آہنگ کرے۔۔۔مغربی معاشیات اور عمل ،خوش و خرم اور مطمئن قوم کی تشکیل کی منزل کے حصول میں ہماری مدد نہیں کرسکیں گے۔ہمیں اپنے مقدر کو سنوارنے کیلئے اپنے ہی انداز میں کام کرنا ہوگا اور دنیا کے سامنے ایک ایسا اقتصاادی نظام پیش کرنا ہوگاجس کی اساس انسانی مساوات اور معاشرتی عدل کے سچے اسلامی تصور پر استور ہو۔  
قائد اعظم ؒکے انتقال (11ستمبر1948ء ) کے چند ماہ بعد دستور ساز اسمبلی نیقائد ملت لیاقت علی خان کے و بانیان پاکستان کی موجودگی میں قراداد مقاصد منظور کی جس میں واضح کیاگیا کہ ریاست کے اختیارات اللہ تعالیٰ کے مقررہ حدود کے اندر عوام کے ذریعے استعمال ہوں گے اور جمہوریت ،آزادی ،مساوات اور رواداری اسلام کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق ہوں گی ساتھ ہی اقلیتوں کی مذہبی آزادی کی صریح ضمانت دی گئی۔ تو پھر اس میں قائد اعظم ؒکیوڑن کے خلاف کہاں اور کس پہلو سے کوئی انحراف ہوا ؟ واضح ہو کہ اس قرارداد کو اتفاق رائے سے تیار کرنے والے ۱۳علمائے کرام جو مختلف فقہی مکاتب سے تعلق رکھتے تھے ان میں سے مولانا احتشام الحق تھانوی صاحب ?بھی تھے۔
لطف کی بات یہ ہے کہ مارچ 1948ء  میں جب قائد اعظمؒ بحیثیت گورنر جنرل مشرقی پاکستان کے دورے پر تشریف لے گئے تو ایک روز مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب ؒ حالاتِ حاضرہ اور دستور سازی کے مسئلے پر براہِ راست گفتگو کرنے کے لیے ان کی ڈھاکہ کی قیام گاہ پر پہنچے۔ اس ملاقات میں قائد اعظمؒ نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ جیسے ہی مہاجرین کے مسائل اور اسمبلی کے دیگر معاملات کسی حد تک سنبھل جائیں گے تو بہت جلد پاکستان کا دستور اسلامی اصولوں کے مطابق تشکیل دیا جائے گا۔ ساتھ ہی قائد اعظمؒ نے اس امر پر زور دیا کہ ملک میں ایک ایسا منصب ہونا چاہیے جو اس بات کی نگرانی کرے کہ کوئی قانون یا آئین اسلام کے منافی نہ بن سکیاور اس منصب کو انہوں نے "شیخ الاسلام" کے طور پر ذکر کیا۔
تاریخی پس منظر اور قائد اعظم ؒ کی 1940ء سے 1948ئتک ساری تقاریر کے تناظر میں دیکھیں تو 11اگست 1947ء کی تقریر کا مدعا فقط یہ ہے کہ اقلیت کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے اور مذہب ان کی ترقی تمدن اور انداز زندگی میں رکاوٹ نہ ہوگااور غیر مسلم اپنے مذہب کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کریں گے۔مختصر یہ کہ ریاست ان پر مذہب مسلط نہیں کرے گی۔