راولپنڈی: انسداد دہشتگردی عدالت میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی، سابق وزیراعظم عمران خان کی عدالت میں پیشی کے طریقہ کار پر وکلاء اور پراسیکیوٹر کے درمیان دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی۔
سماعت کے دوران وکیل فیصل ملک نے درخواست دی کہ کیس کی کارروائی سے قبل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائی جائے تاکہ وکلاء ان سے ہدایات حاصل کر سکیں۔ عدالت نے جواب دیا کہ بانی پی ٹی آئی کو پیغام بھیجا گیا ہے لیکن وہ ابھی پیش ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ وکلاء صفائی سیاسی گفتگو کے بجائے عدالتی کارروائی پر توجہ دیں، اور ملزم سابق وزیراعظم ہونے کے باوجود قانون سب کے لیے برابر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فیئر ٹرائل کا ماڈل قانون میں موجود ہے اور ملزم مطمئن نہ ہو تو اسے ہائی کورٹ یا دیگر اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کر سکتا ہے۔وکلاء صفائی نے موقف اختیار کیا کہ وہ ٹرائل میں رخنہ نہیں ڈالنا چاہتے بلکہ اپنے موکل سے مشاورت کرنا چاہتے ہیں اور عدالت سے بنیادی حق طلب کر رہے ہیں۔
وکلاء نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو واٹس ایپ کال پر پیش کرنا درست نہیں، کیونکہ قانون میں ویڈیو لنک کے واضح طریقہ کار وضع کیے گئے ہیں اور بین الاقوامی مثالیں بھی موجود ہیں، جبکہ واٹس ایپ کال کو ویڈیو لنک تصور نہیں کیا جا سکتا۔پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ پنجاب حکومت کے نوٹیفکیشن میں کسی مخصوص ڈیوائس یا اسکرین کا ذکر نہیں ہے، اور کسی سابق وزیراعظم کے لیے نیا ضابطہ فوجداری نہیں بنایا جا سکتا۔ ملزم ذاتی حیثیت یا ورچوئلی عدالت میں پیش ہو سکتا ہے، لیکن عدالت وکلاء صفائی کی شرائط پر نہیں چل سکتی۔عدالت نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک پر حاضری کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ عدالت میں نظر آئیں۔