امتیازعلی شاکر
پاکستان میں ایسے بے شمار اسکول موجود ہیں جہاں ،دو، تین یا چار سو بچے زیرِ تعلیم ہوتے ہیں پر وہاں ٹوائلٹس کی تعداد ایک یا دو سے زیادہ نہیں ہوتی۔ یہ صورتحال نہ صرف انتظامی نااہلی کی مثال ہے بلکہ تعلیم، صحت اور بچوں کی عزتِ نفس پر براہِ راست خطرہ ہے۔ جب سینکڑوں طلبہ ایک یا دو ٹوائلٹس پر انحصار کریں تو نتیجہ ہمیشہ بے ترتیبی، گندگی، بیماری اور تکلیف کی صورت میں سامنے آتا ہے۔300 یا 400 بچوں کے اسکول میں ایک ٹوائلٹ کا ہونا دراصل ،نہ ہونے کے برابر ہے۔ہر وقت لمبی قطاریں بن جانا عام بات ہے۔ بچے وقت پر کلاس میں واپس نہیں پہنچ پاتے، جس سے سیکھنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ لڑکوں کے لیے تو یہ مسئلہ ایک حد تک قابلِ برداشت ہوتا ہے جبکہ لڑکیوں کے لیے یہ تکلیف کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ماہواری کے دنوں میں اکثر طالبات یا تو اسکول آنے سے گریز کرتی ہیں یا مسلسل ذہنی دباؤ میں رہتی ہیں کیونکہ ناکافی اور غیر محفوظ ٹوائلٹس ان کی صحت کے ساتھ ساتھ ان کی عزتِ نفس کے لیے بھی خطرہ ہوتے ہیں۔صاف پانی کی کمی اور صفائی کے ناقص انتظام اس مسئلے کو مزید سنگین بناتے ہیں۔ ایک یا دو ٹوائلٹس روزانہ سینکڑوں بچوں کے استعمال سے چند ہی گھنٹوں میں خراب حالت اختیار کر لیتے ہیں۔ نہ پانی، نہ صفائی، نہ مرمت کا نظام ۔ نتیجتاً بیماریاں، بدبو، مکھیوں کی بھرمار اور طلبہ کی غیر حاضری بڑھتی ہے۔ والدین کے خدشات بڑھتے ہیں اور کئی بچے اسکول چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔اصل خرابی یہ ہے کہ پالیسی ساز ادارے اسکولوں کے انفراسٹرکچر کو محض،،بجٹ آئٹم،،سمجھتے ہیں، حالانکہ ٹوائلٹ نہ صرف تعلیم یافتہ بچوں بلکہ ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔
حقیقت میںیہ دنیا عجیب تضادات سے بھری ہوئی ہے ۔ ایک طرف خلائی سفر، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی اور دوسری طرف کروڑوں انسان ،ٹوائلٹ، جیسی بنیادی ضرورت سے محروم کہ جس کے بغیر انسانی زندگی کا تصور بھی ادھورا ہے۔ اقوام متحدہ نے 19 نومبر کو،ٹوائلٹ کا عالمی دن،مقرر کرکے اس حقیقت کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرائی ہے کہ آج بھی دنیا کے کئی خطوں میں لوگ بیت الخلا جیسی بنیادی انسانی ضرورت سے محروم ہیں۔ اس دن کو منانے کا مقصد محض رسمی مہم نہیں بلکہ اہم ترین عالمی پیغام ہے کہ جب تک ہر انسان کو محفوظ، صاف ستھرا اور باعزت واش روم میسر نہیں آتا، ترقی کا کوئی بھی دعویٰ ادھورا رہے گا۔ٹوائلٹ یا بیت الخلا صرف ایک جگہ نہیں جہاں انسان اپنی جسمانی ضرورت پوری کرتا ہے، بلکہ یہ صحت، صفائی، معاشرتی وقار اور انسانی حقوق سے براہِ راست جڑا ہوا معاملہ ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں بچے اور بالغ افراد ایسی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں جو گندگی، آلودہ پانی اور کھلے ماحول میں رفعِ حاجت سے پھیلتی ہیں۔ڈائیریا، پیٹ کے انفیکشن،جلدی امراض اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں براہِ راست اس مسئلے سے جڑی ہیں۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ انسانی تاریخ کے اس جدید ترین دور میں بھی تقریباً ایک ارب انسان مناسب ٹوائلٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔ یہ محرومی صرف بیماریوں کا دروازہ نہیں کھولتی بلکہ معاشی نقصان، سماجی پسماندگی اور انسانی عزتِ نفس کو مجروح کرنے کا باعث بنتی ہے۔بیت الخلا کی عدم دستیابی عورتوں اور لڑکیوں کے لیے سب سے بڑامسئلہ بنتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں خواتین کو ان اوقات کاانتظار کرنا پڑتا ہے جب اندھیرا ہو تاکہ وہ چھپ کر رفعِ حاجت کرسکیں۔ اس دوران وہ نہ صرف بیماریوں بلکہ ہراسانی، تشدد اور حادثات کے خطرے کا بھی سامنا کرتی ہیں۔ اسکولوں میں لڑکیوں کی تعلیم کا سب سے بڑا مسئلہ بھی یہی ہے کہ وہاں علیحدہ اور محفوظ ٹوائلٹ نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے وہ ایامِ ماہواری میں اسکول سے غیر حاضر رہتی ہیں۔ یہ سلسلہ کئی علاقوں میں سالانہ لاکھوں لڑکیوں کی تعلیم کو متاثر کرتا ہے۔ یوں ٹوائلٹ کی سہولت محض صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ صنفی مساوات، تعلیم اور معاشرتی ترقی کا مسئلہ بھی ہے۔ٹوائلٹ کی کمی کا ایک اور بڑا نقصان ماحولیات کی تباہی ہے۔ کھلے میں رفع حاجت کے باعث مٹی اور پانی آلودہ ہوتے ہیں، جس سے نہ صرف انسان بلکہ جانور اور پودے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ آلودہ پانی نہروں، دریاوں اور زیرِ زمین پانی تک پہنچ جاتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی دیہی آبادیوں میں آلودہ پانی کا استعمال سب سے بڑی وباؤں کو جنم دیتا ہے۔ ہم ماحولیات کے تحفظ، پائیدار ترقی اور ماحولیاتی صحت کی بات کرتے ہیں، تو اس کا آغاز بھی ٹوائلٹ اور صفائی کے نظام سے ہی شروع ہوتا ہے۔ہر انسان یہ حق رکھتا ہے کہ وہ اپنی بنیادی ضرورت عزت کے ساتھ پوری کر سکے۔ اقوام متحدہ نے 19 نومبر کو، ٹوائلٹ،کا عالمی دن اس لیے مقرر کیا کہ دنیا کو یاد رہے کہ بیت الخلا کی سہولت بھی انسان کا بنیادی حق ہے۔ خاص طور پر معاشی طور پر کمزور طبقات جن میں غریب دیہاتی، مزدور، بے گھر افراد، مہاجرین اور پسماندہ علاقوں کی آبادی شامل ہے جوسب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ان کے پاس نہ تو وسائل ہوتے ہیں نہ سہولیات۔ان کی زندگی کا معیار گندگی اور بیماریوں کے سبب بدتر ہوتا جاتا ہے اور وہ غربت کے دائروں سے کبھی باہر نہیں نکل پاتے۔ٹوائلٹ کی اہمیت کا اندازہ ہمیں روزمرہ زندگی سے بھی ہوتا ہے۔ گھروں، اسکولوں، اسپتالوں، دفاتر، بس اڈوں، ٹرین اسٹیشنوں اور سرکاری مقامات پر بیت الخلا کے بغیر زندگی کا تصور محال ہے۔ کہیں ٹوائلٹ گندے ہوں، پانی نہ ہو یا وہ خراب ہوں تو انسان کی تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ایک ترقی یافتہ معاشرہ وہی ہے جہاں عوام کو صاف، محفوظ اور فعال ٹوائلٹ دستیاب ہوں۔ دنیا بھر کی بڑی حکومتوں اور عالمی اداروں نے اسی لیے ٹوائلٹ کو بنیادی انفراسٹرکچر کا حصہ قرار دیا ہے۔ بدقسمتی سے افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک آج بھی اس حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔ٹوائلٹ نہ ہونے کی وجہ سے معاشی نقصان بھی ہوتا ہے۔بیماریاں بڑھتی ہیں، اسپتال بھرتے ہیں، کام کی صلاحیت کم ہوتی ہے، مزدوری متاثر ہوتی ہے، بچوں کی تعلیم میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں اور یوں ایک پورا معاشرہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کی رپورٹس کے مطابق بہتر صفائی ہر سال لاکھوں جانیں بچا سکتی ہے۔پینے کے صاف پانی اور اچھی صفائی کے نظام میں سرمایہ کاری سب سے زیادہ معاشی فائدہ دیتی ہے۔اس لیے ترقی پذیر ممالک کو چاہیے کہ وہ تعلیم اور صحت کے ساتھ ساتھ صفائی کے نظام، سیوریج اور ٹوائلٹ کی فراہمی پر بھرپور توجہ دیں۔پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے کئی ممالک نے گزشتہ برسوں میں کافی پیش رفت کی ہے پر اب بھی دیہی علاقوں، پسماندہ بستیوں اور اسکولوں میں صورتحال میںبہتر ی لانے کی ضرورت ہے۔ شہروں میں عوامی ٹوائلٹس کی کمی اور صفائی کا مسئلہ آئے دن چیلنج بن کر سامنے آتا ہے۔ عوامی مقامات پر معیاری اور محفوظ ٹوائلٹ نہ ہونا بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ لوگ ذہنی و جسمانی تکلیف کا شکار بنتے ہیں۔19 نومبر کا عالمی دن یاد دہانی ہے کہ ہم واقعی صحت مند، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں بیت الخلا کے بنیادی ڈھانچے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ حکومتوں کو ٹوائلٹ کے منصوبوں کے لیے بجٹ بڑھانا چاہیے، نئے ٹوائلٹ بنانے کے ساتھ ساتھ موجودہ سہولیات کی دیکھ بھال، پانی کی فراہمی اور صفائی کے نظام کو بھی بہتر کرنا چاہیے۔ اسکولوں، اسپتالوں اور عوامی مقامات پر معیاری واش روم کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔اس دن کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہر انسان باعزت زندگی کا حق رکھتا ہے۔ ٹوائلٹ انسان کی صحت، وقار، خوشحالی اور سماجی ترقی سے جڑا ہوا ہے۔ ایک صاف ستھرا، محفوظ اور فعال ٹوائلٹ کسی بھی معاشرے کی مہذب سوچ کا آئینہ ہوتا ہے۔ ہمیں ان کروڑوں انسانوں کی آواز بننا ہوگا جو آج بھی اس سہولت سے محروم ہیں۔ جب تک دنیا کے ہر فرد کو یہ بنیادی حق میسر نہیں آتا، عالمی ترقی کا سفر نامکمل رہے گا۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی صرف عمارتوں، سڑکوں یا ٹیکنالوجی سے ظاہرنہیں ہوتی بلکہ ترقی تب ہے جب ہر انسان کو وہ سہولیات میسر ہوں جن پر اس کی صحت، اس کا وقار اور اس کی زندگی کا دارومدار ہو