مدثر قدیر
دنیا بھر میں ہر سال 14نومبرکو ذیابیطس کا دن منایا جاتا ہے،۔اس دن کو پروفیسر فیڈرک گرانٹ کی یاد سے تعبیر دی جاتی ہے جنہوں نے انسولین کو دریافت کیا اور 14نومبر ان کی سالگرہ کا دن بھی ہے۔ذہابیطس سے بچائو کا عالمی دن ہر سال مختلف تھیم کے تحت منایا جاتا ہیاس سال 2024میں اس دن کو اس عزم کے ساتھ منایا جارہے کہ، "رکاوٹوں کو توڑنااورخلا کو ختم کرنا ہے "،جس کا مطلب ذیابیطس کے خطرات کو کم کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہماری لگن پر زور دیتا ہے کہ ذیابیطس کی تشخیص کرنے والے ہر فرد کو منصفانہ، جامع، سستی، اور اعلیٰ معیار کے علاج اور دیکھ بھال تک رسائی حاصل ہو۔شوگر ایک ایسی بیماری ہے جو انسانی جسم کے ان افعال پر اثر انداز ہوتی ہے جو جسم کے اندر کاربوہائیڈریٹس (شکر)چکنائی اور لحمیات کے ہونے والے عوامل پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ذیابیطس میں خاص طور پر انسولین کی مقدار میں کمی یا اس کی ساخت میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے خون میں گلو کوز کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ذیابیطس کی دو اقسام ہوتی ہیں۔ٹائپ ون میں انسان کا لبلبہ یا تو بہت کم انسولین پیدا کرتا ہے یا بالکل ہی نہیں کرتااور یہ عمر کے کسی بھی حصے میں ہو سکتی ہے لیکن یہ زیادہ تر بچپن اور نوجوانی کے دور میں ہوتی ہیاوراس لئے اس کا علاج صرف انسولین دینے سے ہی ہو سکتا ہے۔ٹائپ و ن ذیابیطس موروثی طور پر منتقل ہونے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے اگر ماں کو ٹائپ ون ذ یابیطس ہو تو بچے کو بیماری ہونے کا خطرہ 3فیصد ہے جبکہ باپ کے بیمار ہونے پر بچے کو خطرہ چھ فیصد ہو جاتا ہے لیکن جڑواں بچوں کی صورت میں یہ خطرہ بڑھ کر 25سے 50فیصد ہو جاتا ہیمگر دس فیصد مریض ٹائپ ون کے ایسے ہوتے ہیں جن میں انسولین پیدا کرنے والے لبلبے کے خلیات کے خلاف اینٹی باڈیز نہیں ملتیں ،ایسے مریضوں کو ٹائپ ون بی کا مریض قرار دیا جاتا ہے۔ ذیابیطس کے کل مریضوں کا90فیصد ٹائپ ٹوکے زمرے میں ا?تا ہے، ان مریضوں کے خون میں انسولین کی کچھ مقدار تو پائی جاتی ہے لیکن یہ مقدار اتنی نہیں ہوتی کہ خون میں گلو کوز کو نارمل رکھنے میں کامیاب ہو سکے بعض اوقات انسولین انسانی جسم میں موجود گلو کوز کو استعمال کرنے کی صلاحیت کھو دیتی ہے جس کو انسولین کی مزاحمت بھی کہا جاتا ہے۔جنیاتی اور ماحولیاتی دونوں عناصر مل کرلبلبے کے خلیات کی تباہی اور انسولین کی مزاحمت کا باعث بنتے ہیں۔ بیماری کی شروعات میں انسولین پیدا کرنے والے لبلبہ کے خلیات کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے فاقہ کے دوران (خالی پیٹ) انسولین کی مقدار بھی زیادہ ہو جاتی ہے جس سے خون کا گلوکوز لیول نارمل سے گر سکتا ہے اور بعض دفعہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسولین پیدا کرنے والے خلیات کی جگہ دوسرے ٹشوز بن جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ انسولین کی کمی واقع ہونے لگتی ہے۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں کیا جاتا ہے جہاں پر اس مرض میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ملکی آبادی کا قریبا 27فی صد یعنی 33ملین لوگ ذیابیطس کی کسی نہ کسی قسم کا شکار ہیںجبکہ دنیا بھر میں اس کی وجہ سے 537ملین لوگ کسی نہ جسمانی عوارض میں مبتلا ہیں۔ ذیابیطس یعنی شوگر کی وجہ سے کون سے امراض لاحق ہوسکتے ہیں اس بارے میں صدر پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشنز ڈاکٹر طارق محمود میاں سے طویل گفتگو ہوئی جس میں ان کا کہنا تھا شوگر کو ام الامراض کہا جاتا ہے اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے طبی مسائل کا اثر جسم کے کسی بھی حصہ پر ہوسکتا ہے اگر دماغ کی بات کی جائے تو یہ فالج کا باعث بنتی ہے ،آنکھوں میں سفید موتیااترنے،بینائی متاثر کرنے ،دل کے دورے،گردوں کے فنکشن کو غیر فعال کرنے،قبض ،ڈائریا کھانا ہضم نہ ہونے اور ٹانگوں کے ٹھنڈا ہونے ان کے سن ہونے کا سبب بنتی ہے جبکہ یورین ٹریک میں انفیکشن اور نمونیا کا سبب بھی شوگرکا اتار چڑھائو ہوسکتا ہے۔ڈاکٹر طارق محمود میاں نے بتایا کہ ایک نارمل انسان میں رات کو8تا 10 گھنٹے کے فاقے کے بعد اگلی صبح اگر شوگر لیول 60سے 110 ملی گرام فی 100ملی لیٹر خون میں آئے تو یہ نارمل ہے لیکن اگر یہ 110-125 ملی گرام فیصد آئے تو یہ ذیابیطس کے خطر ے کی گھنٹی بجنے کے مترادف ہے۔ اگر یہ لیول 126 یا زائد ہو تو یہ ذیابیطس کی نشانی ہے۔ کھانے کے دو گھنٹے بعد جو ٹیسٹ کرتے ہیں اسکو بلڈ شوگر کہتے ہیں۔ اس ٹیسٹ میں اگر گلو کوز کا لیول140 ملی گرام فیصد سے کم ہو تو نارمل ہے لیکن اگر 140تا199 ملی گرام ہو تو سمجھیں کہ معاملہ گڑ بڑ ہے۔اگر 200 ملی گرام فیصد یا زائد ہو تو یہ ذیابطیس ہونے کی نشانی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ذیابیطس کی علامات میں پیاس ، بھوک کا ذیادہ لگنا اور پیشاب کا بار بار آنا شامل ہیں اس مرض میں 70لاکھ سے زائد مرد و زن مبتلا ہیں مگر دیکھا جائے تو خواتین کی تعداد اس حوالے سے زیادہ ہے۔شوگر کے مرض پر قابو پانا انسان کے اپنے اختیار میں ہے ، بیلنس ڈائٹ اس حوالے کلیدی کردار ادا کرتی ہے جس میں کاربوہایڈ ریٹس سے بنی اشیاء سے پرہیز اہم ترین ہے جبکہ فائبر سے پیدا شدہ یاں اس پر مشتمل اشیاء کے استعمال سے بیماری سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو روکا جاسکتا ہے۔ ذیابیطس کے عالمی دن کی مناسبت سے آگاہی دیتے ہوئے ڈاکٹر طارق محمود میاں کا کہنا تھا کہ روزانہ آدھ گھنٹے کی واک خون میں شوگر کے فعال کو کنٹرول کرتی ہے جبکہ اخروٹ ،بادام ،جو کے آٹے،مکھن اور زیتون کے تیل کے مناسب استعمال سے بھی اس پر قابو پاہاجاسکتا ہے ہر انسان کا مدافعتی سسٹم الگ ہے اس لیے ضروری نہیں ایک ہی گولی دوسرے مریض پر ایک جیسا اثرڈالے اس لیے اپنے ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کرنا آپ کی اولین ذمہ داری ہونا بہت ضروری ہے۔ صدر پاکستان اکیڈمی ا?ف فیملی فزیشنز ڈاکٹر طارق محمود میا ں کی باتوں سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ذیابیطس یعنی شوگر کا مرض اگر پیچیدہ صورت حال اختیار کرلے تو قوت مدافعت کی کمی اور جسمانی کمزوری کی وجہ سے انسانی جسم متعدد امراض کا شکار ہوجاتا ہے اور ذندگی مشکل ہوجاتی ہے مگر مستند ڈاکٹرز کی تجویز کردہ ادویات ،انسولین کا بروقت استعمال جاری رکھا جائے تو بیماری کی شدت اور اس سے پیدا ہونے والے دیگر مسائل سے بچ کر صحت مند طرز زندگی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے۔