اسپیکر یا وزیرِاعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانی ہے: اسد قیصر

اسپیکر یا وزیرِاعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانی ہے: اسد قیصر

اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی جماعت نے اسپیکر یا وزیرِاعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن بھارت کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے باعث یہ منصوبہ وقتی طور پر مؤخر کر دیا گیا۔

اسد قیصر نے بتایا کہ اگر ہم کشیدہ حالات میں تحریک عدم اعتماد لاتے تو ہماری حب الوطنی پر سوال اٹھتے۔ ایسی صورتحال میں ہماری سیاسی سرگرمیوں کو پاکستان دشمنی کے طور پر دیکھا جاتا، اس لیے ہم نے اپنے ذاتی و سیاسی مقاصد کو پیچھے رکھتے ہوئے قومی مفاد کو ترجیح دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک مکمل جامع حکمت عملی بنائی تھی جس میں آل پارٹیز کانفرنس، اسمبلی کے باہر متبادل اجلاس اور عدم اعتماد سمیت کئی اقدامات شامل تھے۔ اس دوران جب ہم پہلا ایونٹ لاہور میں کرنے جا رہے تھے، بھارت کی طرف سے حملے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد ہم نے ملک بھر میں جلسے اور احتجاجی سرگرمیاں منسوخ کر دیں۔

اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ہم نے قومی یکجہتی کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام سرگرمیاں وقتی طور پر معطل کی ہیں، ختم نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے بنائے گئے سیاسی اتحاد نے بھی ملک گیر احتجاج کی کال دی تھی، لیکن بھارتی جارحیت کے خدشے کے پیش نظر تمام جماعتوں نے سیاسی سرگرمیاں مؤخر کر دیں۔ان کا کہنا تھا کہ جنگی کشیدگی کی صورتحال ابھی پوری طرح واضح نہیں، اس لیے قومی مفاد میں تحمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔