پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر ہونے کے باوجود بھارت کی جانب سے کرتارپور راہداری 9 روز سے بند ہے، جس سے سکھ یاتریوں کی آمد و رفت متاثر ہو رہی ہے۔
ہیڈ گرنتھی گوردوارہ دربار صاحب سردار گوبند سنگھ نے بھارت سے اپیل کی ہے کہ وہ سیاست کو مذہب سے دور رکھے اور سکھ یاتریوں کو کرتارپور راہداری کے ذریعے پاکستان آنے کی اجازت دے۔سردار گوبند سنگھ نے کہا کہ پاکستان اپنے سکھ بھائیوں کا منتظر ہے اور عالمی جنگ عظیم کے دوران بھی مذہبی مقامات کی یاترا بند نہیں کی گئی تھی، اس لیے بھارت بھی اس راہداری کو کھول کر یاتریوں کو دربار کے درشن کرنے دے۔
مقامی یاتری بھی بھارت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ کرتارپور راہداری کھولی جائے تاکہ مذہبی فریضہ ادا کیا جا سکے اور امن و بھائی چارے کو فروغ دیا جا سکے۔یہ راہداری سکھوں کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہاں وہ اپنے مذہبی رسم و رواج ادا کرتے ہیں، لیکن بھارت کی بندش کے باعث لاکھوں یاتری متاثر ہو رہے ہیں۔