62ارب کی76 ترقیاتی سکیمیں ٹھس

ایوان قائد تا شوکت خانم ہسپتال سیوریج سسٹم کی بحالی اور مرمت کا پراجیکٹ ختم کردیا گیا۔
لاہور(کرائم رپورٹر)پنجاب حکومت نے ہیلتھ، تعلیم، سپورٹس سمیت متعدد محکموں کی اہم ترقیاتی سکیموں کو روک دیا، پنجاب حکومت نے 62 ارب روپے کی 76ترقیاتی سکیموں کو سالانہ ترقیاتی پروگرام سے نکال دیا ، محکمہ خزانہ پنجاب نے رکھے فنڈز فوری طورپر روکنے کے احکامات جاری کر دئیے،  اہم سرکاری دستاویزات کے مطابق پی اینڈ ڈی کی جانب سے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے ترقیاتی سکیموں کو نکالنے کی تجویز صوبائی کابینہ کو دی گئی تھی۔ سپورٹس، سپیشل ایجوکیشن، سپیشلائزڈ ہیلتھ، پرائمری ہیلتھ ،سوشل ویلفیئر، انوائرنمنٹ، لوکل گورنمنٹ، ٹرانسپورٹ، لیبر، انڈسٹریز، روڑز سیکٹر ، انرجی ، گورنمنٹ اور آئی ٹی سیکٹرکی مختلف اہم ترقیاتی سکیمیں ختم کردی گئیں، لاہور سمیت جنوبی پنجاب میں بننے والے سپورٹس کمپلیکس کے پراجیکٹ ، ملتان میں معذور بچوں کے سکول کی تعمیر مرمت کے پراجیکٹ کواعلان کے 7ماہ بعد ختم کردیا گیا، ایوان قائد تا شوکت خانم ہسپتال سیوریج سسٹم کی بحالی اور مرمت کا پراجیکٹ ختم کردیا گیا۔ مری راولپنڈی میں واٹر سپلائی کے پراجیکٹ ،ر اولپنڈی میں برن یونٹ بنانے کا پراجیکٹ بھی ختم کردیا گیا، پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کی تعمیر کا منصوبہ بھی روک دیا گیا، پنجاب کے ترشی کیئر ہسپتالوں میں پتھالوجی لیب، لانڈری سروسز کو آئوٹ سروس کرنے کا پراجیکٹ ختم کر دیا گیا، پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں میکینکل انفارسٹیکچر کو فنکشنل کرنے کے منصوبے بھی ختم ہو گئے، پنجاب کے ہسپتالوں کی مینجمنٹ اتھارٹی بنانے کا منصوبہ بھی ختم کر دیا گیا۔ دیپالپور روڈ اوکاڑہ کی تعمیر و مرمت کیلئے رکھا گیا پراجیکٹ ختم کردیا گیا، اس پراجیکٹ کیلئے 11 ارب روپے رکھے گئے تھے، یہاں پر دو رویہ سڑک بننا تھی ، وہ بھی ختم کر دی گئی ، ایمرجنسی ریسکیو 1122 کا سٹیشن منصوبہ ختم کر دیا گیا، بتایا گیا کہ یہ ایس ڈی جیز گائیڈ لائن کے مطابق یہ فیزیبل ہی نہیں تھا اور یہ سکیم ڈیپارٹمنٹل معیار کے مطابق بھی نہیں تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر یہ ایمرجنسی محکمہ کی سکیم کی منظوری کیوں دی گئی تھی جسے بعد میں ختم کیا گیا، محکمے کی جانب سے اگر کوئی غلطی ہے تو  کوئی ایکشن لیا گیا؟ کاہنہ لاہور میں سپورٹس کیمپلکس اور جمنزیم کی تعمیر کیلئے جو سکیم ختم کی گئی اس کی وجہ بتائی گئی کہ زمین ہی میسر نہ ہو سکی، ڈی جی خان میں سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کیلئے بھی سکیم اس لئے ختم کی گئی کہ زمین میسر نہ آسکی، مظفر گڑھ اور رحیم یار خان میں سپورٹس کمپلیکس بھی زمین نہ ملنے پر ختم کیاگیا، سوال یہ پیدا ہوتا رہا کہ 7 ماہ تک کیوں محکمے خاموش رہے، کیوں محکمہ کو بروقت آگاہ نہ کیا گیا اور سکیم جب شامل کی گئی تو کیا معیار تھا کہ بغیر کسی تیاری کے سکیم کو بجٹ میں کیسے شامل کر دیا گیا۔ ایسے ہی دیگر محکموں کی سکیموں کو بھی ختم کردیا گیا۔ محکمہ پی اینڈ ڈی حکام کے مطابق وہ ترقیاتی سکیمیں جو بروقت مکمل نہیں ہورہی تھیں ،ان کو پروگرام سے نکال دیا گیا۔