قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان غیر معمولی سیاسی رابطے دیکھنے میں آئے، جب وزیراعظم شہباز شریف نے نہ صرف اپوزیشن رہنماؤں سے مصافحہ کیا بلکہ اہم قومی امور پر مشاورت کے لیے دو مرتبہ اپوزیشن بینچوں کا رخ بھی کیا۔
اجلاس کے آغاز پر وزیراعظم ایوان میں پہنچے تو وہ خود اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی نشستوں پر گئے اور ان سے مصافحہ کیا۔بعد ازاں ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ایران اور امریکا سے متعلق صورتحال پر قومی اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا اور اس حوالے سے متفقہ قرارداد لانے کی تجویز پیش کی۔خطاب کے بعد وزیراعظم دوبارہ اپوزیشن بینچوں میں گئے، جہاں انہوں نے محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سے ملاقات کی اور ان سے مختلف امور پر مشاورت کی۔
اس دوران اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے مطالبات وزیراعظم کے سامنے رکھے، جبکہ وزیراعظم کچھ دیر کھڑے ہو کر ان سے گفتگو کرتے رہے۔ بعد ازاں انہوں نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو بھی طلب کر کے ہدایات جاری کیں۔اجلاس کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف بھی اپوزیشن نشستوں پر گئے اور رہنماؤں سے مشاورت کی، جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ رانا ثناء اللہ نے بھی اپوزیشن قیادت سے ملاقات کی۔