پاکستان کو ایران کے ساتھ کھل کر کھڑے ہوجانا چاہیے، فضل الرحمان

پاکستان کو ایران کے ساتھ کھل کر کھڑے ہوجانا چاہیے، فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران، لبنان، شام اور عراق پر حملوں کے بعد اگلی باری پاکستان کی ہو سکتی ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ایران اور غزہ کے ساتھ کھل کر اظہارِ یکجہتی کرے اور فلسطینی عوام کے دفاع میں فیصلہ کن کردار ادا کرے۔

ایران پر حملے کے بعد پاکستان کی سلامتی خطرے میں ہے:
مولانا فضل الرحمان نے کہا:"ایران پر اسرائیلی حملہ ہوچکا ہے، عراق، لبنان، شام پہلے ہی زد پر آ چکے ہیں، اور اگر ہم نے کھل کر ساتھ نہ دیا تو اگلا ہدف پاکستان ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی ایٹمی قوت کو غیر مؤثر کرنا دشمن کا ایجنڈا ہے۔"
فلسطین پر دوہرا معیار، اسرائیل کو کھلی چھوٹ:
انہوں نے عالمی برادری اور بڑی طاقتوں کے دوہرے معیار پر شدید تنقید کی:"اگر ایران اسرائیل کو جواب دے تو اسے روکا جاتا ہے، اگر پاکستان بھارت کو جواب دے تو ہمارے ہاتھ پکڑے جاتے ہیں، مگر اسرائیل کے ہاتھ نہیں روکے جاتے۔آج 60 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے، اور صرف دو دن میں 1,500 افراد مارے گئے۔"
ٹرمپ-آرمی چیف ملاقات پر تنقید:
مولانا نے حالیہ ڈونلڈ ٹرمپ اور آرمی چیف عاصم منیر کی ملاقات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا:"نہ جانے اس ملاقات میں کیا بات ہوئی، لیکن میرا خیال ہے ٹرمپ نے شاید کہا ہوگا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ نہ ہو، لیکن فلسطین-اسرائیل جنگ پر کوئی بات نہیں کی گئی۔"
پاکستان اسلامی دنیا کی قیادت کرے:
ان کا کہنا تھا کہ:"پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، اور اسلامی دنیا کا سب سے مؤثر ملک ہے۔مگر قیادت کرنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود ہم صرف دفاعی پوزیشن میں ہیں۔"
او آئی سی اور اقوامِ متحدہ پر عدم اعتماد:
مولانا نے موجودہ عالمی اداروں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا:"او آئی سی دکھاوا ہے، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی۔"
کم عمری شادی بل کو مسترد:
انہوں نے حالیہ پیش کردہ کم عمری شادی بل کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا:"یہ بل قرآن و سنت کے خلاف ہے، ہم جائز نکاح کو مشکل اور زنا کو آسان بنا رہے ہیں۔ہر مکتبہ فکر کے علما اس بل کے مخالف ہیں۔"
بجٹ، معیشت اور حکومتی کارکردگی پر کڑی تنقید:
مولانا فضل الرحمان نے موجودہ حکومت کے بجٹ کو بھی آئی ایم ایف کا تیار کردہ قرار دیتے ہوئے کہا:"حکومت میں خود بجٹ بنانے کی صلاحیت نہیں رہی، اور اختلاف کرنے والوں کی آواز زبردستی بند کی جا رہی ہے۔"انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ہمارے علاقوں کے منصوبے روک دیے ہیں، جو پہلے خود افتتاح کر چکے تھے۔

سیاسی و معاشی انقلاب کی ضرورت:
مولانا نے زور دیا کہ:"روایتی سیاست کا وقت گزر چکا، اب عوامی شعور بیدار کرنے اور انقلاب کی ضرورت ہے۔معاشی بہتری طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ عدل و انصاف سے آئے گی۔"
 سیاسی تجزیہ:
مولانا فضل الرحمان کا یہ خطاب پاکستان کے داخلی و خارجی چیلنجز، مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، اور اسلامی دنیا میں پاکستان کے ممکنہ کردار پر شدید تنقید اور اصلاحی اپیل کا امتزاج تھا۔
انہوں نے نہ صرف اسرائیل و امریکہ کو نشانہ بنایا بلکہ حکومت، عالمی اداروں اور خود پارلیمنٹ کی ناکامیوں کو بھی بے نقاب کرنے کی کوشش کی۔