وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں ریلوے نظام کو جدید، محفوظ اور فعال بنانے سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ اور دیگر اقدامات:
ملاقات کے دوران وزیر ریلوے حنیف عباسی نے رانا ثناء اللہ کو ریلوے میں جاری ترقیاتی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ:9 مسافر ٹرینیں آؤٹ سورس کر دی گئی ہیں۔مزید 11 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ پر کام جاری ہے۔ساتھ ہی ساتھ ریلوے کے اسکولز اور اسپتالوں کو بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے تاکہ ان اداروں کی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے۔
ریلوے اسٹیشنز پر سہولیات میں بہتری:
حنیف عباسی نے بتایا کہ:راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر معلوماتی ڈیسک قائم کر دیا گیا ہے، جہاں مسافروں کو درست اور بروقت معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔RWMC (راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی) کے ساتھ صفائی سے متعلق معاہدے کے بعد ریلوے اسٹیشنز کی صفائی کے معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔جدید صفائی نظام کے تحت مسافروں کو زیادہ صاف ستھرا ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔
انفراسٹرکچر اپ گریڈیشن:
مزید بتایا گیا کہ:بوگیوں کی مرمت اور نئی کوچز کی خریداری کا عمل جاری ہے۔جدید ٹریکنگ سسٹم کی تنصیب پر بھی کام تیزی سے کیا جا رہا ہے تاکہ ٹرینوں کی مؤثر نگرانی ممکن ہو سکے۔
حکومتی حمایت کی یقین دہانی:
اس موقع پر رانا ثناء اللہ نے وزیر ریلوے کے اقدامات کو سراہا اور یقین دلایا کہ:"وزیر اعظم آفس ریلوے کی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرتا رہے گا۔"انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے ملکی معیشت کا ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کی فعالیت اور بحالی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
پس منظر:
پاکستان ریلوے ایک عرصے سے مالی بحران، ناکارہ ڈھانچے اور ناقص سروس کا شکار رہا ہے، اور موجودہ حکومت اس ادارے کو نجی شعبے کی شراکت سے فعال بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔