انسائیڈر ٹریڈنگ کے جرم میں پہلی سزا :غیرقانونی منافع کا3گناجرمانہ

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)پاکستان کی تاریخ میں انسائیڈر ٹریڈنگ کے جرم میں پہلی سزا سنادی گئی۔ ملزم پر الزام ہے کہ اس نے اندرونی خفیہ معلومات کا غیر قانونی استعمال کرکے سٹاکس سے منافع کمایا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سپیشل جج بینکنگ کورٹ نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اندرونی معلومات کے غلط استعمال کے مقدمے میں سزا سنا دی۔ مقدمہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے دائر کیا تھا، عدالت نے نجی بینک کے اسسٹنٹ وائس پریذیڈنٹ انویسٹمنٹس کو قصوروار قرار دیا۔ چیئرمین ایس ای سی پی عاکف سعید نے کہا کہ عدالتی فیصلہ پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھائے گا اور سرمایہ کی تشکیل میں مدد دے گا۔ ملزم نے ایک کروڑ 17لاکھ حصص خریدے اور پھر خود لاکھوں روپے کا غیر قانونی منافع کمالیا۔ عدالت نے ملزم کو اندرونی معلومات کے غلط استعمال پر مجرم قرار دے کر اس پر 86لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جو کہ غیر قانونی منافع کا 3گنا ہے۔