عبدالرزاق برق
مشرق وسطیٰ جو کئی عشروں سے جنگی عذاب سہہ رہاہیے آج اس کی زمین ایک بارپھرآگ کی لپیٹ میں ہیے یہ تازہ آگ مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ طاقتوراوربے زنجیرملک اسرائیل نے تمام عالمی اخلاقی قاعدے اورقانون اپنے پاوں روندتے ہوئے ایران کے نیوکلئیرپروگرام کے خاتمے کے خلاف ابھرتاہوا شیرکے نام پرایک آپریشن سے لگائی اگرچہ اسرائیل کے اس حملے میں زیادہ نقصان ایران کاہواہیے اوراسرائیل کابھی ہوا ہے مگر اسرائیل کانقصان تو امریکہ اداکریں گے لیکن ایران کا نقصان جوکہ ناقبل تلافی ہیے کون اداکریں گے ؟ لیکن ایران پر حالیہ اسرائیل کے اس حملے اورجنگ کے خلاف دنیا کے مسلمانوں کاواحدملک بھی ایران ہیے جواس وقت تنہا اسرائیل کے خلاف بڑی ہمت اورجرائت بہادری اورغیرت کے ساتھ ڈٹ کرمقابلہ کررہاہیے ایران کامقابلہ صرف ایک دہشت گرد ریاست اسرائیل سے نہیں بلکہ اس کے حامیوں بشمول کئی مسلم ممالک اورتقریبا" پوری دنیامیں پھلے ہوئے اسرائیل کے سرپرستوں سے ہیے اورموجودہ دورمیں پہلی بار ایران اسلامی دنیا میں واحدایسا ملک نظرآرہا ہیے جووقت فرعون اورظالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرتا ہیے اوروقت آنے پرکافرکے ساتھ لڑنابھی ہیے ایران اگرچہ اس وقت اس جنگ میں مقابلہ کے لئے اکیلا نظرآرہا ہے مگروہ غیرت سے مالامال بھی ہیے اگرایران کے پاس جنگ لڑنے کاجزبہ ہیے لیکن جزبہ تنہا کافی نہیں ہوتااسے مضبوط دوست سچے اتحادی اورعملی مددگارچاہیے اس وقت مسلم دنیا کے 21ممالک نے ایران پرحملے کی شدیدمذمت کی ہے مگرکیا مذمتیں اوراخلاقیات کی باتیں کرنا ایرانیوں کی جانیں مرنے سے بچاسکتیں ہیں؟ کیا قراردادیں کسی بھی مقام پرپاس کروانے سے کسی کومارنے اورمرنے سے روک سکتیں ہیں؟ آخر ایک بھی ملک اس سطح پرجاکرایران کے ساتھ کیوں کھڑا نظرنہیں آرہا ؟کیوں کوئی ایک ملک بھی اتنارسک لینے کوتیارنہیں کہ وہ ایران کی کھلم کھلا حمایت کرکے اسرائیل اورامریکہ کواپنامخالف بنالے ؟جہاں تک پاکستان کا ایران کے حمایت کی بات ہیے توپاکستان نے ہمیشہ سفارتی سیاسی اوراخلاقی یکجہتی کامظاہرہ کیا ہے اوربین الاقوامی سطح کسی قسم کی جارحیت کی کھل کر مذمت کی ہے جس کا ایرانی قیادت اورعوام نے اعتراف بھی کیا ہے پاکستان کے وزیراعظم صدرقومی اسمبلی سینٹ چاروں صوبائی اسمبلیوں نے بھی قراردادیں منظورکئیں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب عاصم افتخارنے سیکورٹی کونسل کے اجلاس میں کھل کراس حملے کی مذمت کی گئی مگرپاکستان کے مسلح افواج بیرونی تنازعات میں ریاست کی اجازت کے بغیرملوث نہیں ہوتے یہ بات بھی درست کہ پاکستان کے برادرمسلم پڑوسی ملک ایران نے 1965کی جنگ میں پاکستان کے مددگار رہیے تھے لیکن خطے کے عرب دنیا اس حوالے سے مکمل خاموش ہیے کہ انہوں نے براہ راست ایران کے ساتھ کھڑاہونے کاکوئی اعلان نہیں کیا تو کیا اسلامی ممالک صرف تماشائی بنے رہیے گے ؟ اگر78سالوں سے 56 مسلمان ممالک اسرائیل کی خوف میں مبتلاہیے اورایران یکتنہا اسرائیل کا مقابلہ کررہا ہے توپھرکہاں گئی امت مسلمہ کاایک سیاسی قیادت اورایک قوت؟ کہاں گیا؟ یہ نعرہ تیرارشتہ میرارشتہ کیا لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ؟ کہاں گیا یہ بات جب پرانا بین الاقوامی نظام میں کسی بھی خودمختارریاست پربلاجواز حملہ جرم تصورکیا جاتا تھا لیکن اسرائیل کے حالیہ ایران پرحملہ کرنے سے وہ تصورجرم خودبخوددم توڑگیا کہاں گیا یہ بات کہ اوآئی سی کے کسی ایک رکن پرحملہ پورے عالم اسلام پرحملہ تصورہوگا؟ کہاں گئی اقوام متحدہ کے چارٹرکا آرٹیکل 51 جوکسی بھی ملک کے دفاع کے حق میں بیان دے کر اس کاحمایت کرسکتاہیے ؟ کہاں گئی؟ عالمی قانون جوکسی کویہ اجازت دیتا ہیے کہ جس ملک سے کوئی خطرہ محسوس کریں اسے اس طریقے سے تباہ کیاجائے کہاں گئی؟ صدرٹرمپ کی یہ بات کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان جنگ کرنے کے بعدمیں نیان دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کی۔ گئی لیکن اسرائیل اورایران کے درمیان جنگ بندی اوردونوں کے درمیان معاہدہ کیوں نہیں کیاجاتا؟ صدرٹرمپ نے اپنے پہلے دورمیں کوسواورسربیا میں امن قائم کرنے کی مثالی بھی دی جوبقول ان کے ایک دوسرے کے پیچھے پڑے ہوئے تھے اوریہ طویل عرصے سے جاری تنازع جنگ کاپیش خیمہ بننے کو تھا لیکن انہوں نے اسے روکا صدرٹرمپ نے مصراورایتھوپیا میں آبی تنازعہ کاحوالہ بھی دیاہیے جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ان کے مداخلت سے امن قائم ہوا اسی طرح ایران پر اسرائیلی حملے کے دوران ایران کا اسرائیل سرزمین پر جوابی حملے کی مغربی ٹی وی سکرینوپرقبرستان جیسی خاموشی سے کہاں گئی آزادی صحافت کی علمبرداری جب ایرانی قوم نے بہت کم وقت میں اپنی فوجی طاقت اورفضائی نظام بحال کردیااوراسرائیلی تاریخ میں اسرائیل سرزمین پر بہت بڑی جوابی حملے شروع کررکھے ہیں تومغربی میڈیاپرایرانی حملے کی سلکٹیڈکوریج کیوں دیکھائی دِیئے ؟یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران کا جوہری تنازعہ 2015میں طے پانے والے عالمی جوہری سمٹ چکا تھا اس معاہدے کی روح سے ایران کوکم درجے پریورنیم افزودہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی جوپرامن مقاصدکے لئے استعمال ہوسکتی ہے جوہری ہتھیارکے لئے نہیں مگر2017میں ٹرمپ نے بغیر کسی جوازکے اس معاہدے کوختم کیا ایران یورنیم افزودگی کی بندش سے آزادہوگیایوں وہ سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں اب کہتے ہیں کہ وہ چندجوہری ہتھیاروں کے لئے درکارایندھن کی تک پہنچ چکا ہے صدرٹرمپ کواپنے اس دوسرے دورمیں ایران کی جوہری صلاحیت میں اضافے کاایران کوامریکی دھمکیوں کاسامنا کرناپڑااوراپریل میں بات چیت کاسلسلہ شروع ہو گیا جس میں اختلاف رائے کے تعطل نہیں آیا یہاں تک گزشتہ ھفتے اسرائیلی حملے نے امریکہ ایران مذاکرات کی اس پیش رفت کوملیامٹ کردیا گیا اس اقدام سے معاہدہ طے پانے اورجوہری صلاحیت کوقابوں میں کرنے کی کوششوں کونقصان پہنچا ایران پر اسرائیل نے ایک ایسے وقت میں حملہ کیا ہے کہ ایک طرف ایران کے جوہری پروگرام پرایران نے امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات نہ منسوخ کیا نہ ملتوی بلکہ 15جون کوعمان کے شہرمسقط میں دوطرفہ مذاکرات کاچھٹادورمنعقدہونا تھا جبکہ دوسری طرف ایران کے سپریم لیڈرنے ایٹمی ہتھیاروں کوحرام قراردیاہیے اورانکا اپناایٹمی پروگرام پرامن مقاصدکے لئے قراردیاگیا اس وقت ایران میں جوجنگ ہورہاہیے یہ جنگ یورپ اورامریکا کاہیے امریکہ چاہتاہیے کہ آخوندوں یاملاوں کی رجیم برقراررہیے لیکن اس شرط پر کہ وہ امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت ہواس لئے ایک طرف اسرائیل کے زریعے ایران پرحملے کئے جارہیے ہیں اوردوسری طرف مذاکرات کی باتیں بھی ہورہی ہے یورپ چاہتاہیے ملاوں یاآخوندوں کی رجیم ختم ہوجائے اس کے جگہ پرپہلوی خاندان کے لوگ اقتدارمیں آجائیںتاکہ ایران کاموجودہ مسلہ حل ہوجائے بقول ایران کے سابق صدرکے بیٹے شہزادہ رضا پہلوی کے
ایران پرموجودہ جنگ اسرائیل اورایرانی لوگوں کے درمیان نہیں بلکہ یہ صرف ایران کے سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کی جنگ ہیے کیونکہ یہ حکومت عوامی حکومت نہیں یہ حکومت زورسے قائم ہوئی ہے اس وقت ایران میں دونوں ممالک اسرائیل اورایران انسانیت کی بقاکی چوکاٹ میں جنگ نہیں لڑرہیے بلکہ ایک صہونیزم اوردوسرااخوانیزم کے نام سے جنگ لڑنے میں بے گناہ عوام مروا رہیے ہیں‘ ایرانی لوگوں کے ڈی این اے میں اسرائیل اورامریکہ سے نفرت موجودہیے اگرایران میں موجودہ رجیم کوچینج کروانا ہیے توسب سے پہلے عوام کی مرضی سے ہونا چاہئے نہ کہ ڈھنڈے کے زورسے عوام سے پوچھا جائے کہ وہ کس طرح حکومت چاہتے ہیں اسلامی حکومت یاجمہوری
حکومت ووٹ کے زریعے پارلیمنٹ کے زریعے لیکن اگرامریکہ اوراسرائیل۔ کلاشن کوف کے زریعے لانے کی کوشش کریں گے اس سے کشت خون ہوگی جوکہ یہ عمل خودایرانی عوام کیخلاف ہیے اورمشرق وسطی کے خلاف بھی امریکہ کویہ حق کس نے دیا کہ وہ دس ہزارکلومیٹردور بٹھ کر ایران میں رجیم چینج کی باتیں کررہا ہے اوررجیم چینج کے نام پرایرانی عوام پرجنگ مسلط کررہاہیے امریکہ۔ کو چاہیے ایرانی عوام سے پوچھے کہ وہ کس کی حکومت کس طرح حکومت چاہتے ہیں