14 ججز کو چھوڑ کر15 ویں نمبر والے کو کیوں ٹرانسفر کیا گیا:آئینی بینچ

اسلام آباد ( آن لائن)سپریم کورٹ آئینی بنچ نے ججز کی سینیارٹی اور ٹرانسفر سے متعلق اہم کیس کی سماعت آج مکمل کرکے مختصر فیصلہ جاری کرنے کا عندیہ دیاہے۔جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس میں  کہا ہے ذوالفقار علی بھٹو کیس میں ججز وکلاء  کو کہتے رہے کہ جلدی دلائل مکمل کر لیں تاخیرنہ کریں، وکلاء  کے طویل دلائل کے سبب کیس تاخیر کا شکار ہوتا رہا، ججز ریٹائر ہوتے رہے، یوں ججز ریٹائر ہونے کے سبب ججز کی کمپوزیشن ہی تبدیل ہوگئی۔اس کیس میں سوال یہ ہے کہ  14 ججز کو چھوڑ کر 15ویں نمبر والے جج کو کیوں ٹرانسفر کیا گیا؟جوڈیشل کونسل یا آرٹیکل 6 کے تحت بننے والی اسپیشل کورٹ کے ججز مخصوص مدت کے لیے ہوتے ہیں، لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ آرٹیکل 200 کے تحت جج کا تبادلہ مستقل ہے یا عارضی؟انھوں نے یہ سوالات اور ریمارکس بدھ کے روزدیے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے وکیل ادریس اشرف کو دلائل سے روک دیا گیا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ پہلے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اپنے دلائل مکمل کریں کیونکہ ان کے دلائل پر شاید جواب الجواب دینا پڑے گا، لہٰذا بانی پی ٹی آئی کے وکیل ان کے بعد اپنے دلائل پیش کریں