پاکستان نے اپنا پہلا مقامی اردو زبان پر مبنی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل "قلب" لانچ کر دیا ہے۔
یہ ماڈل نوجوان انٹرپرینیور تیمور حسن نے تیار کیا ہے، جو اس وقت امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ "قلب" کو دنیا کا سب سے بڑا لارج لینگویج ماڈل قرار دیا جا رہا ہے جو خصوصی طور پر اردو کے لیے بنایا گیا ہے۔ڈویلپرز کے مطابق "قلب" کو 1.97 ارب ٹوکنز پر تربیت دی گئی ہے اور اسے سات سے زائد بین الاقوامی بینچ مارکنگ فریم ورکس کے ذریعے جانچا گیا۔ ابتدائی نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ماڈل موجودہ اردو پر مبنی اے آئی ماڈلز کے مقابلے میں حقیقی دنیا میں بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔تیمور حسن ایک کامیاب نوجوان انٹرپرینیور ہیں، جنہوں نے اب تک 13 اسٹارٹ اپس لانچ اور کامیابی سے ایگزٹ کیے ہیں۔ وہ مائیکروسافٹ کپ کے فاتح رہ چکے ہیں اور کئی بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ انہوں نے فاسٹ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز مکمل کیا اور اب آبرن یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس اور سافٹ ویئر انجینئرنگ میں ماسٹرز کر رہے ہیں، جہاں وہ جدید اے آئی اور ٹیکنالوجی منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دنیا بھر میں 230 ملین سے زائد اردو بولنے والے موجود ہیں، اور "قلب" کا مقصد اردو زبان میں جدید اے آئی صلاحیتیں فراہم کر کے اس دیرینہ ٹیکنالوجی خلا کو پُر کرنا ہے۔ یہ ماڈل مقامی کاروباروں، اسٹارٹ اپس، تعلیمی پلیٹ فارمز، ڈیجیٹل سروسز اور وائس بیسڈ اے آئی ایجنٹس کے لیے معاون ثابت ہوگا۔تیمور حسن نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے ٹیکنالوجی مستقبل میں حصہ ڈالنے کے وسیع مشن کا حصہ ہے۔ انہوں نے اپنے انڈرگریجویٹ ساتھیوں جواد احمد اور محمد اویس کے ساتھ مل کر کام کیا اور ٹیم کا ارادہ ہے کہ مخصوص صنعتوں کے لیے مزید مقامی اے آئی ماڈلز کو بہتر بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اب صرف بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ چھوٹی ٹیمیں بھی ایسے ٹولز بنا سکتی ہیں جو تعلیم دیں، خودکار بنائیں اور لاکھوں لوگوں کی خدمت کریں، وہ بھی بڑے بجٹ کے بغیر۔