امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے اشاروں کے بعد، وائٹ ہاؤس نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ ایران کے لیے دانشمندی یہی ہے کہ وہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ کرے۔رپورٹس کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان عمان کی ثالثی میں حالیہ دنوں میں بالواسطہ مذاکرات دوبارہ شروع ہو چکے ہیں۔قبل ازیں، یہ مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہو گئے تھے جب اسرائیل نے گزشتہ سال ایران پر حملے کیے، جس کے بعد 12 روزہ جنگ چھڑ گئی تھی۔امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ امریکہ اس ہفتے کے آخر تک ایران پر ممکنہ حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، مگر حتمی فیصلہ ابھی تک نہیں کیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کو مختلف فوجی آپشنز پر بریفنگ دی گئی ہے۔دوسری جانب، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران ایک فریم ورک تیار کر رہا ہے جس کے تحت آئندہ مذاکرات ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ جنیوا مذاکرات میں چند بنیادی اصولوں پر اتفاق ہوا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن دباؤ قبول نہیں کرے گا۔علاوہ ازیں، عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی سے ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ ہوا ہے، جس میں جوہری پروگرام سے متعلق امور زیر بحث آئے۔امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز میں فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔ اس کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال انتہائی نازک ہو گئی ہے۔