پارہ چنار میں اشیائے ضروریہ کی شدید قلت، پیٹرول 1200 روپے لیٹر تک پہنچ گیا

پارہ چنار میں اشیائے ضروریہ کی شدید قلت، پیٹرول 1200 روپے لیٹر تک پہنچ گیا

پارہ چنار میں بدامنی کے باعث ٹل پارہ چنار مرکزی شاہراہ 142 روز سے بند ہے، جس کے باعث خوراک، ادویات اور فیول کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

 پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 1200 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بند ہونے سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ضلعی انتظامیہ نے لوئر کرم میں قافلوں پر فائرنگ کے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کا اعلان کردیا ہے۔ حکام کے مطابق اوچت، مندوری، ڈاڈ کمر اور بگن کے چار گاؤں خالی کرانے کا حکم دے دیا گیا ہے، جبکہ امن و امان یقینی بنانے کے لیے سرچ آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ علاقے میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت کے ساتھ ساتھ تقریباً ڈیڑھ ہزار طلبہ و طالبات اور دو ہزار سے زائد اوورسیز پاکستانی پھنسے ہوئے ہیں۔

ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق شہریوں کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ جرگہ ممبر نذیر احمد نے امن معاہدے کے باوجود روڈ نہ کھولنے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ محصور عوام کی جان و مال کا تحفظ کیا جائے اور شاہراہ کو فوری طور پر کھولا جائے۔ضلعی انتظامیہ نے مزید بتایا کہ بدامنی کے خاتمے کے لیے بنکرز مسمار کرنے کا عمل تیز کردیا گیا ہے، جبکہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کو شیڈول فور میں ڈالنے اور کشیدہ صورتحال کے ماسٹر مائنڈز کے سروں کی قیمت مقرر کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔