ماں بیٹی قتل، ڈی ایس پی عثمان حیدر کے 2ساتھی گرفتار

 الگ سمت کا تاثر دینے کیلئے شیراز اور خانسامہ کو بیوی اور بیٹی کے موبائل دئیے
ڈی ایس پی نے شیراز کو ایک پارسل بھی دیا،جس میں مقتولین کا سامان تھا
لاہور(کرائم رپورٹر )ڈی ایس پی پنجاب پولیس عثمان حیدر کی جانب سے اپنی بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے کے معاملے میں پولیس نے مزید پیش رفت کرتے ہوئے دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق مقتولہ ماں اور بیٹی کے موبائل فون بھی برآمد کر لیے گئے ہیں۔حراست میں لیے گئے افراد میں ڈی ایس پی کا قریبی دوست شیراز عرف بوبی اور اس کا خانسامہ شامل ہیں ڈی ایس پی نے قتل کے بعد شیراز عرف بوبی اور خانسامہ کو فون کیا اور دونوں کو مقتولین کے موبائل فون دیے ایک شخص کو بیٹی کا جبکہ دوسرے کو بیوی کا موبائل فون دیا گیا، تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ ماں اور بیٹی الگ الگ سمت میں گئی ہیں۔خانسامہ بیٹی کا موبائل فون لے کر گجومتہ کی طرف گیا جبکہ شیراز عرف بوبی بیوی کا موبائل فون لے کر غالب مارکیٹ پہنچا۔ تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ دوہرے قتل کے بعد ڈی ایس پی نے شیراز عرف بوبی کو ایک پارسل بھی دیا جس میں مقتولین کا سامان موجود تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق جب تفتیش کے دوران پارسل کو کھولا گیا تو اس پر خون کے نشانات پائے گئے، جس کے بعد تفتیش کا دائرہ وسیع ہوا اور پولیس اصل ملزم تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی دفعات شامل کرنے کے لیے لواحقین کے تتیمہ بیان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ لواحقین کے بیان کے بعد مقدمے میں دفعہ 302 شامل کی جائے گی۔ فی الحال ڈی ایس پی عثمان حیدر کو دھمکی دینے کے مقدمے میں پیش کیا گیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق ملزم سے آلہ قتل کی برآمدگی ابھی باقی ہے اور تفتیش مختلف پہلوؤں سے جاری ہے ، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا نے مقتولہ کی بہن کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ کیس میں کسی بھی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی اور ملزم کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے گی۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا کا کہنا تھا کہ تفتیش ہر پہلو سے مکمل کی جا رہی ہے اور متاثرہ خاندان کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا۔