سندھ حکومت نے صوبے کے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف تیز اور بے رحمانہ آپریشن کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت امن و امان کے حوالے سے اجلاس ہوا، جس میں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمد دستگیر، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد شمریز، آئی جی پولیس غلام نبی میمن، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف اور دیگر اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کو کچے میں آپریشن کے حوالے سے مختلف اداروں کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔ فیصلہ کیا گیا کہ وزیر داخلہ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی مانیٹرنگ کمیٹی قائم کی جائے گی، جس میں سیکریٹری داخلہ، ڈی جی رینجرز، آئی جی پولیس اور دیگر اداروں کے افسران شامل ہوں گے۔ علاوہ ازیں، آپریشن پر عمل درآمد کے لیے ایک اور اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سندھ حکومت پنجاب حکومت کو اعتماد میں لے گی اور کچے کے علاقوں میں ترقیاتی کام، روڈ نیٹ ورک، تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کچے کے علاقے میں ہر صورت امن و امان بحال رکھنا ہے اور اغوا برائے تاوان کی کوئی واردات برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو ڈاکو ہتھیار ڈالیں گے، ان کے ساتھ رعایت برتی جائے گی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ پولیس کو جدید اسلحہ فراہم کیا گیا ہے اور ٹیکنالوجی کی مدد سے آپریشن کے نمایاں نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔ فیصلہ کن آپریشن خاص طور پر لاڑکانہ اور سکھر کے کچے علاقوں میں تیز کیا جائے گا تاکہ عوام کے جان و مال کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ترجمان وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ آپریشن کے دوران کچے کے علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بند کی جائے گی اور ڈاکوؤں کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی معطل کر دیے جائیں گے۔ موبائل ٹاورز کی نشاندہی بھی کر لی گئی ہے تاکہ آپریشن موثر ہو۔