یوم آزادی پر32خود کش بمباروں کے ذریعے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بلوچستان میں ماسٹر مائنڈ پروفیسر پکڑا گیا

’’ہیروف ٹو‘‘ منصوبے  کے تحت  بارود سے بھری4 گاڑیوں کا استعمال کیا جانا تھا، دہشتگرد منصوبے میں کوئٹہ سمیت ملک کے مختلف اہم شہروں کو نشانہ بنایا جانا تھا
پہلی مرتبہ مجید بریگیڈ کے کسی عہدیدار کو حراست میں لیا گیا ہے جو پاکستان سٹڈی کا پروفیسر ہے‘ یہ شخص  بچوں کو شدت پسندی کی طرف راغب کرتا تھا:وزیراعلی بلوچستان
 ریاست نے مجھے عزت اور مقام دیا لیکن میں نے ریاست سے غداری کی اور دہشتگردوں کی سہولت کاری کی: گرفتار پروفیسر عثمان قاضی کا اعترافی ویڈیو بیان

 اسلام آباد‘کوئٹہ(آئی این پی ‘آن لائن)یوم آزادی کے موقع  پر خفیہ ایجنسیوں  کی جانب سے دہشتگردی گردی کا بڑا پاکستان دشمن منصوبہ’’ ہیروف ٹو‘‘ ناکام بنا دیا گیا ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق یوم آزادی پرخفیہ اداروں نے بروقت کارروائی کرکے ملک دشمنوں کاپراجیکٹ ہیروف ٹواورماسٹرمائنڈ پکڑ لیا، جس نے 2024 کے ریلوے اسٹیشن حملے کی منصوبہ بندی اور 32 خودکش بمباروں کوتربیت دینے کا اعتراف بھی کیا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہیروف ٹو میں 32 خودکش بمبارشامل تھے،چار وی بی آئی ای ڈیز یعنی بارود سے بھری گاڑیوں کا استعمال کیا جانا تھا،بڑے دہشتگرد منصوبے میں کوئٹہ سمیت ملک کے مختلف اہم شہروں کو نشانہ بنایا جانا تھا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ڈاکٹرعثمان قاضی نامی بھارتی ایجنٹ کی گرفتاری 11 اگست کو ہوئی،ڈاکٹر عثمان قاضی بی ایل اے کے خودکش حملوں کا مبینہ ماسٹرمائنڈ بھی بتایا جاتا ہے،اسی کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر چار وی بی آئی ای ڈیز اور آئی ای ڈیزبھی برآمد کی گئیں۔دریں اثناء زیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا ہے  سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کے موقع پر بلوچستان میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے ایک مبینہ خودکش حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے اور کہا ہے ایک سہولت کار بھی پکڑا گیاجوگریڈ18کا پروفیسر نکلا۔پریس کے دوران وزیراعلیٰ نے مذکورہ پروفیسر کی ویڈیو چلا دی جس میں اس نے اعتراف کیا کہ ریاست نے مجھے عزت و مقام دیا میں نے غداری کی۔صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ گرفتار شخص شہریوں کو جشنِ آزادی کے دوران نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا لیکن بروقت کارروائی سے بلوچستان کو بڑی تباہی سے بچا لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ مجید بریگیڈ کے کسی عہدیدار کو حراست میں لیا گیا ہے، جو  پاکستان اسٹڈیز کا لیکچرار ہے۔ وزیراعلیٰ نے انکشاف کیا کہ یہ شخص نہ صرف بچوں کو شدت پسندی کی طرف راغب کرتا تھا بلکہ دہشتگردوں کا علاج بھی اپنے گھر پر کرتا رہا۔ انہوں نے سکیورٹی فورسز، انسداد دہشتگردی کے محکمے اور پولیس کو کامیاب کارروائی پر خراجِ تحسین پیش کیا۔پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ نے گرفتار شخص کا ایک ریکارڈ شدہ اعترافی بیان بھی سنایا۔ اس میں ملزم نے بتایا کہ اس نے قائداعظم یونیورسٹی سے ماسٹرز اور پشاور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے اور گریڈ 18 میں بطور لیکچرار تعینات ہے جب کہ اس کی بیوی بھی سرکاری ملازم ہے۔ملزم نے انکشاف کیا کہ 2020ء  میں قائداعظم یونیورسٹی کے ایک دورے کے دوران اس کی ملاقات ایک شدت پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے 3 افراد سے ہوئی تھی۔ ان میں سے 2 بعد میں مارے گئے جب کہ باقی افراد نے اسے تنظیم میں شامل کیا اور اس کی ملاقات بشیر زئی سے کرائی۔ اس نے مزید بتایا کہ تمام روابط ٹیلی گرام کے ذریعے استوار ہوئے اور کوئٹہ پہنچنے کے بعد اس نے گروہ کی ہدایت پر 3 کارروائیوں میں سہولت کاری کی۔پریس کانفرنس میں گرفتار پروفیسر عثمان قاضی کا اعترافی بیان بھی جاری کیا گیا، جس میں اس نے بتایا کہ ریاست نے مجھے عزت اور مقام دیا لیکن میں نے ریاست سے غداری کی اور دہشتگردوں کی سہولت کاری کی۔ ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ کوئٹہ ریلوے اسٹیشن حملے میں ملوث گروہ سے جڑا رہا اور دہشتگردوں کے ساتھ روابط کے لیے ٹیلی گرام ایپ کا استعمال کرتا رہا۔اس نے مزید بتایا کہ 2020 میں قائداعظم یونیورسٹی کے ایک دورے کے دوران شدت پسند تنظیم کے ارکان سے ملاقات ہوئی اور پھر بشیر زیب کے ذریعے اس گروہ میں شامل کیا گیا۔عثمان قاضی نے اپنے اعترافی بیان میں مزید بتایا کہ وہ بیوٹم یونیورسٹی میں پاکستان اسٹڈیز پڑھاتا رہا ہے، اس نے دہشتگرد تنظیم کی ایک خاتون کو پستول فراہم کیا جو سرکاری افسران کی ٹارگٹ کلنگ میں استعمال ہوا۔ ملزم کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں محرومی کا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، حقیقت میں ریاست نے کبھی مجھے محروم نہیں رکھا، بلکہ میں نے خود ہی ریاست کے ساتھ غداری کی۔