4.52 ارب ڈالر واجبات دیئے جائیں ‘تعلقات کی بہتری کیلئے مسائل کا حل ہونا ضروری ہے
اسلام آباد،ڈھاکہ(آئی این پی)پاکستان، بنگلہ دیش تعلقات کی بحالی کے معاملے پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے دورے سے قبل بنگلہ دیش نے اپنے دیرینہ مطالبات دہراتے ہوئے پاکستان سے 71 کی جنگ پر معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا جبکہ واجبات کی مد میں 4.52 ارب ڈالرز بھی مانگ لیے۔ غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈھاکا میں دونوں ملکوں کے سیکریٹریز خارجہ کی ملاقات ہوئی جس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بنگلادیشی سیکرٹری خارجہ جاسم الدین نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات میں چند رکاوٹیں دور کرنے کی ضرورت ہے، ہمارے تعلقات کی بہتری کیلئے ان مسائل کا حل ہونا ضروری ہے۔جاسم الدین نے کہا کہ ڈھاکا میں دونوں ملکوں کے سیکرٹری خارجہ کی ملاقات میں دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔، بنگلا دیشی حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ دو طرفہ تعلقات میں چند رکاوٹیں ہیں جن کو دور کرنے کی ضروری ہے۔واضح رہے کہ پاکستان کی سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کے سیکرٹری خارجہ جاسم الدین سے باضابطہ ملاقات کی۔ اس کے علاوہ آمنہ بلوچ نے بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس اور مشیر خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کی تھیں ۔ پاکستان کی سیکرٹری خارجہ سے ملاقات کے بعد جاسم الدین نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ بنگلہ دیش نے پاکستان سے 1971 میں علیحدہ ہونے کے بعد واجبات کی مد میں 4.32 ارب ڈالر بھی مانگے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈھاکہ نے پاکستان سے 1971 کی جنگ کے مبینہ مظالم پر باضابطہ معافی مانگنے کا معاملہ بھی اٹھایا۔سیکرٹری خارجہ جاسم الدین نے کہا کہ انھوں نے پاکستان سے بنگلہ دیش میں پھنسے پاکستانیوں کی اپنے وطن واپسی جبکہ 1970 کے طوفان کے متاثرین کے لیے بھیجی گئی غیر ملکی امداد کی منتقلی کا مطالبہ بھی کیا۔