اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کے معاملے پر ذمے داری پنجاب حکومت پر عائد ہوتی ہے ،ملاقات ہونی چاہیے،گفتگو
اسلام آباد (آئی این پی ) سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن )نے مولانا فضل الرحمان کو استعمال کر کے اسٹیبلشمنٹ سے اپنے معاملات کو سیدھا کیا۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ جے یو آئی کیا فیصلہ کرتی ہے یہ تو وہ بہتر جانتے ہیں، ہم تو دورسے بیٹھے رائے ہی دے سکتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ مولانا فض الرحمان ماضی میں بھی پی ڈی ایم کا حصہ رہے اور پی ڈی ایم میں رہ کر تحریک میں بڑا فعال کردار ادا کیا۔ سب نے اس کا استعمال اسٹیبلشمنٹ سے معاملات ٹھیک کرنے کے لیے کیا۔مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ اسی طرح نہ ہو کہ جب مولانا لانگ مارچ لے کر لاہورپہنچے تو مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ان کا استقبال کیا جائے،ماضی میں( ن) لیگ نے مولانا کو استعمال کر کے اسٹیبلشمنٹ سے اپنے معاملات کو سیدھا کیا، اس کے نتیجے میں میاں نوازشریف لندن چلے گئے۔انھوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کلیئر ہیں کہ نیا الیکشن کرایا جائے ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کی جانب سے اسپیس دی جا سکتی ہے اور دیگر الائنس کے پارٹنرز کو، لیکن یہ کہنا قبل ازوقت ہے۔تاہم راستہ تلاش کیا جا سکتا ہے۔پی ٹی آئی میں ملاقاتوں کے حوالے سے تنازع کے سوال پر انھوں نے کہا کہ اس میں زیادہ ذمے داری پنجاب حکومت پر عائد ہوتی ہے، کیوں کہ جو جیل کا محکمہ ہے وہ صوبائی حکومت کے نیچے آتا ہے تو مریم نوازنے خود یہ تکالیف دیکھی ہیں اور یہ تکالیف اوروں کو دینا غیر مناسب عمل ہے، ملاقات کی اجازت بھی ہونی چاہیے۔