سیاستدانوں کو جیل میں نہیں ہونا چاہئے، ملک کو دھاندلی سے پاک انتخابات کی ضرورت ہے، ہمیشہ مذاکرات کا حامی رہا ہوں
اسٹیبلشمنٹ کا نظریات سے کوئی تعلق نہیں، وہ صرف اپنی اتھارٹی مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں،سیاستدانوں کے منفی رویئے سے پارلیمان بے معنی ہوگیا
لاہور(خصوصی رپورٹر‘ایجنسیاں)جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے ہمیشہ کہتا ہوں سیاستدانوں کو جیل میں نہیں ہونا چاہئے، ملک کو دھاندلی سے پاک انتخابات کی ضرورت ہے،سیاست دانوں کے منفی رویئے سے آج پارلیمان بے معنی ہوگیا، سیاستدانوں کا کردار بھی اس حوالے سے اطمینان بخش نہیں رہا ۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہا مجھے پی ٹی آئی کے مطالبات کا نہیں معلوم، میری خواہش ہے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہوں۔ملک میں دھاندلی سے پاک انتخابات کی ضرورت ہے، ادارے اپنی مرضی کی حکومت بنانا چاہتے ہیں جسے وہ اپنی لاٹھی سے ہانک سکیں مگر یہ ایک ناجائز خواہش ہے۔ ہم نظریاتی سیاست کرنا چاہتے ہیں مگر اسٹیبلشمنٹ کا نظریات سے کوئی تعلق نہیں، وہ صرف اپنی اتھارٹی کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں،سیاستدان اسٹیبلشمنٹ سے سمجھوتا کرتے رہے تو آئین ختم ہوجائے گا‘ آئین میثاق ملی ہے اگر اس کی خلاف ورزی ہوگی تو یہ بے معنی ہوجائے گا۔انہوں نے کہا امریکہ اس خطے سے شکست کھاکر بھاگا ہے اب وہ پاکستان کو خانہ جنگی کی طرف لے جانا چاہتا ہے، قبائلی علاقوں میں حکومت کی رٹ ختم ہوچکی ہے‘انہوں نے کہا ٹرمپ کو کیوں اتنا دماغوں پر سوار کیا ہوا ہے