جعفر ایکسپریس دھماکا بلوچستان سے پلان کیا گیا،ڈی آئی جی ریلوے کی بریفنگ
کمیٹی کا نئے چیئرمین کے انتخاب کیلئے سپیکر سے رابطہ کا فیصلہ، صادق میمن کا واک آؤٹ
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ریلوے نے ٹرینوں میں جیمرز لگانے کی سفارش کر دی ،کمیٹی نے نئے چیئرمین کے انتخاب کیلئے سپیکر سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا، جب کہ رکن صادق علی میمن نے ذیلی کمیٹی میں شامل نہ کیے جانے پر واک آؤٹ کیا۔ اجلاس کی صدارت کنوینر رمیش لال نے کی ،ڈی آئی جی ریلوے پولیس نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس دھماکے میں ریموٹ کنٹرول ڈیوائس اور چار سے پانچ ایکسپلوسوز استعمال کیے گئے،حملہ آوروں کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی، تاہم تحقیقات حساس ادارے کر رہے ہیں۔ واقعہ ممکنہ طور پر بلوچستان سے پلان کیا گیا تھا، جب کہ ریلوے پٹڑیوں کی نگرانی اور ایف سی کے ساتھ مشترکہ گشت بڑھا دیا گیا ہے۔ سیکرٹری ریلوے نے بتایا کہ ریلوے کی ہائی ویلیو پراپرٹیز لاہور اور کراچی میں واقع ہیں جن کی لیز مدت 33 سال تک بڑھائی جا سکتی ہے تاکہ ریلوے آمدن میں اضافہ ہو۔مزید بتایا گیا کہ ریلوے کے زیرِ استعمال ایک ہزار 458 ایکڑ زمین ہے اور 60 کچی آبادیاں ریگولرائز ہو چکی ہیں۔ وی آئی پی سیلون کو عوام کیلئے کھول دیا گیا ہے، اسلام آباد سے کراچی تک کرایہ ایک لاکھ 70 ہزار روپے مقرر ہے۔کراچی پورٹ سے پیپری تک فریٹ کوریڈور منصوبہ دو مراحل میں مکمل ہوگا، پہلے مرحلے پر آئندہ آٹھ ماہ میں کام شروع ہونے کا امکان ہے۔ منصوبے کی ابتدائی سرمایہ کاری 40 کروڑ ڈالر متوقع ہے، جس پر یو اے ای کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ اس سے ریلوے کی فریٹ کپیسٹی بڑھے گی اور کراچی میں ٹریفک دباؤ کم ہوگا۔