ویب ڈیسک: بنگلہ دیش کی عدالت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث قرار دے کر سزائے موت سنادی ہے، جس کے بعد عوامی انصاف کی فتح ہوئی ہے اور علاقائی تسلط کے خواب کو شکست دے دی گئی ہے۔
عدالت کے فیصلے کے مطابق، شیخ حسینہ واجد نے مظاہرین پر مہلک ہتھیاروں کا استعمال کیا، طلبہ کی تحریک کو دبانے کے لیے توہین آمیز اقدامات کیے اور فسادات کو ہوا دی۔بنگلہ دیش نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر شیخ حسینہ واجد کو حوالے کیا جائے، ساتھ ہی سابق وزیر داخلہ اسد الزماں کمال کو بھی ملک میں واپس لایا جائے۔بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کے مطابق، مجرموں کو پناہ دینا انصاف کی توہین ہے۔عدالت کے 3 رکنی بینچ نے شیخ حسینہ، سابق وزیر داخلہ اسد الزماں کمال اور سابق آئی جی چودھری عبداللہ المامون کو مجرم قرار دیا ہے۔
شیخ حسینہ، جنہیں ماضی میں بھارت کے حمایت یافتہ کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، اب اپنے ہینڈلرز کے پاس پناہ لیے ہوئے تھیں۔عدالت کے فیصلے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور کرپشن کے ریکارڈ قائم کرنے والی سابق وزیراعظم کا بحران ختم ہونے کا اشارہ ہے۔