اسرائیل کے لبنان پر وحشیانہ فضائی حملے ،جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی

اسرائیلی آباد کاروں کے حملے کے بعد اسرائیلی پولیس نے متعدد فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا
بیروت، نیویارک،غزہ،پیرس (آئی این پی )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لبنان کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان پر وسیع فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔اسرائیلی حکام کا دعوی ہے کہ ان حملوں کا ہدف حزب اللہ سے وابستہ ٹھکانے ہیں، تاہم کارروائی سے قبل نو دیہات کے رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ جاری کی گئی تھی، اس سے ایک روز پہلے پانچ دیہات خالی کرائے گئے۔اسرائیلی بمباری نے جنگ بندی کے مستقبل سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے، خاص طور پر ان دسیوں ہزار لبنانی شہریوں میں جو پہلے ہی جنوبی علاقوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق درجنوں دیہات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کچھ علاقے سرحد سے 50 کلومیٹر دور واقع ہیں، تازہ حملوں کے بعد مقامی آبادی کی ایک اور بڑی تعداد جنوبی شہر صیدا اور دارالحکومت بیروت کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے، یہ نئے حملے ایک دن بعد ہوئے جب اسرائیل اور لبنانی نمائندوں نے واشنگٹن میں موجودہ نازک جنگ بندی کو مزید 45 دن تک بڑھانے پر متفق ہوئے ہیں۔اس سے قبل لبنانی حکام نے اسرائیل پر جان بوجھ کر طبی سہولیات کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا تھا۔خیال رہے کہ امریکہ اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے لبنان میں اسرائیلی دہشت گردی سے اب تک تین ہزار شہری شہید ہو چکے ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں، ہزاروں افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں لبنانی شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے لبنان میں جنگ بندی میں 45 دن کی توسیع کا خیر مقدم کیا ہے۔اقوام متحدہ کے سربراہ کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹری جنرل جنگی کارروائیوں کے خاتمے میں 45 روزہ توسیع کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں جو امریکہ کی سہولت کاری میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد ممکن ہوئی