سمیع اللہ ملک
مشرقِ وسطی کی سرزمین صدیوں سے طاقتوں کی کشمکش کامیدان رہی ہے،مگرحالیہ کشیدگی نیاس خطیکوایک ایسیدہانے پرلا کھڑاکیاہے جہاں تاریخ کی سانسیں بھی بوجھل محسوس ہوتی ہیں۔مشرقِ وسطی کی سرزمین آج پھرتاریخ کے ایک ایسیموڑپرکھڑی ہے جہاں زمانے کی سانسیں تھم سی گئی ہیں اورسیاست کے افق پربارودکی بوپھیلتی محسوس ہوتی ہے۔اورخطے کی سیاست اس وقت ایک ایسے نازک موڑپرکھڑی ہے جہاں ہرقدم تاریخ کے دامن میں نئی ہلچل پیداکررہاہے۔امریکااوراسرائیل کی جانب سے ایران پرپے درپے حملوں کے بعد ایران کی جوابی کارروائیوں نے عالمی منظرنامے کوایک نئے اضطراب سے دوچارکردیاہے۔
گویامشرقِ وسطی کی سرزمین آج ایک ایسے اضطراب میں مبتلاہے جس کی گونج تاریخ کے طویل ایوانوں میں سنائی دے رہی ہے۔ طاقت کی سیاست اپنے تمام ہتھیاروں کیساتھ میدان میں اترآئی ہے،اورافق پرجنگ کے بادل اس طرح گہرے ہورہے ہیں جیسے صدیوں کی خاموشی ایک طوفان میں ڈھلنے کوہو۔مشرقِ وسطی کی فضااس وقت ایسے اضطراب سے لبریزہے جیسے تاریخ کسی نئے طوفان کے آنے کی آہٹ سن رہی ہو۔طاقت کی بساط پرمہرے حرکت میں ہیں،سفارت کاری کے ایوانوں میں بے چینی کی سرگوشیاں ہیں،اور عالمی سیاست کے افق پراندیشوں کے بادل گہرے ہوتے جارہے ہیں۔
امریکااوراسرائیل کی جانب سے ایران پرمسلسل حملوں کیبعدایران کی جوابی کارروائیاں اس امرکی شہادت دے رہی ہیں کہ تہران نے دباکے سامنے سرجھکانے کی بجائے مزاحمت کاپرچم بلندرکھاہے۔ایران کی سخت اوربے باک کارروائیوں نے عالمی سیاست کے آسمان پرایک ایساطوفان برپاکردیاہے جس کی گھن گرج دوردورتک سنائی دے رہی ہے۔ تہران نے سخت دبا،سفارتی دبستانوں کی چالاکیوں، دھمکی،میڈیاکے شوراورپروپیگنڈے کے طوفان کے باوجودہتھیارڈالنے سے انکارکردیاہے۔
تہران نے دبا،دھمکی اورسفارتی تنہائی کے باوجودہتھیار ڈالنے سے انکارکرکے یہ واضح کردیاہے کہ وہ اس معرکے کومحض ایک جنگ نہیں بلکہ اپنی خودمختاری کی بقاکاسوال سمجھتاہے۔ امریکااوراسرائیل کی جانب سے ایران پرمسلسل حملوں کیبعد ایران کی جوابی کارروائیوں نے اس خطے کوایک ایسی کشیدگی کے دہانے پرلاکھڑاکیاہے جس کے مضمرات کااندازہ لگانا آسان نہیں۔ایسے میں یہ سوال عالمی ضمیرکوبجلی کی طرح کچوکے لگارہاہے کہ کیاامریکاوہی ہولناک راستہ اختیارکرسکتاہے جودوسری عالمی جنگ کے اختتام پر اس نے جاپان کے شہروں ہیروشیمااورناگاساکی پرایٹم بم گراکرلمحوں میں خاکسترکردیاتھا؟
یہ سوال محض سیاسی قیاس آرائی نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے ایک اندوہناک باب کی بازگشت ہے،جوآج کے عالمی ضمیرکوپھرسے جھنجھوڑرہی ہے۔اگرتاریخ کی وہ بھیانک بازگشت دوبارہ سنائی دی تویہ محض ایک عسکری فیصلہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے ضمیر پرایک اورزخم ہوگا۔تاریخ کی وہ لرزہ خیزداستان آج بھی انسانی یادداشت میں ایک ایسے زخم کی مانند موجود ہے جس کی کسک کبھی مدھم نہیں پڑی۔اگروہی سانحہ ایک بارپھردہرایاگیاتویہ صرف ایک ملک کی تباہی نہ ہوگی بلکہ انسانیت کی پیشانی پرایک اورسیاہ دھبہ اورتہذیبِ انسانی کے ضمیرپرایک اورزخم کااضافہ ہوگا۔تاریخ کی وہ لرزہ خیزداستان آج بھی انسانی ضمیرپرایک ایسے نقش کی طرح ثبت ہے جسے وقت کی دھول بھی مٹانہیں سکی۔اگرتاریخ کی وہ قیامت ایک بارپھردہرائی گئی تویہ صرف ایک عسکری فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ انسانی تہذیب کے ضمیرپر ایک اورگہرا انمٹ زخم ثبت ہوجائے گاجس کے بعدموجودہ دنیااک گہری تاریکی اور دھوئیں میں تبدیل ہو سکتی ہے۔۔تاریخ گواہ ہے کہ اس خطے کی سرزمین ہمیشہ عالمی طاقتوں کی کشمکش کامیدان بنی رہی ہے،مگر آج جومنظرنامہ ابھررہا ہے اس کی سنگینی پہلے سے کہیں زیادہ گہری اورخوفناک محسوس ہوتی ہے۔
جوہری ہتھیارمحض جنگی قوت کے مظاہرنہیں بلکہ انسان کی ایجادکردہ وہ قیامت ہیں جولمحوں میں شہروں کوملبے اورزندگیوں کو خاموشی میں بدل دیتی ہیں۔اگرخدانخواستہ ایران پرایٹمی حملہ ہواتوتباہی کاوہ منظر نامہ سامنے آئے گاجسے بیان کرنے کیلئے الفاظ بھی کانپتے ہیں۔جوہری ہتھیارمحض جنگی قوت کی علامت نہیں بلکہ قیامت کے دروازے کی ایک کنجی ہیں۔ جوہری ہتھیارکی تباہی محض بارودکی گھن گرج نہیں ہوتی؛یہ ایک ایسی خاموش قیامت ہے جس کے اثرات وقت کے دریاں میں دو تک بہتے چلے جاتے ہیں۔ایک لمحہ آتاہے جب روشنی کاایک اندھا کردینے والاشعلہ آسمان کوچیردیتاہے،اورپھر شہر،بستیاں اورزندگی کے چراغ یکایک بجھنے لگتے ہیں۔
اگرخدانخواستہ ایساسانحہ رونماہوتاہے تواس کی تباہی کااندازہ صرف اعدادوشمارسے نہیں لگایاجاسکتا۔جوہری ہتھیارکی تباہی ایک ایسی آگ ہے جس کی لپٹیں صرف لمحوں میں لاکھوں زندگیاں نگل لیتی ہیں۔زمین پر بسنے والی تمام مخلوقات ایک ہی آن میں زندگی کی قندیل بجھابیٹھیں گے۔فوری ہلاکتیں تومحض اس قیامت کاپہلامنظر ہوں گی؛جوہری حملہ ایک ایسی قیامت ہے جولمحوں میں شہر کوملبے میں اورزندگی کوخاموشی میں بدل دیتاہے۔ایٹمی ہتھیارمحض جنگی قوت کااظہارنہیں بلکہ قیامت کاایک استعارہ ہیں۔
خاکم بدہن ایساہولناک حادثہ رونماہوگیااورایران کی سرزمین پرایسی آگ اتری تولمحوں میں بستیاں خاکستراورزندگیاں خاموش ہوجائیں گی۔ہزاروں انسان ایک ہی آن میں مٹی کی آغوش میں جاسوئیں گے،بلکہ راکھ بن سکتے ہیں،مگراصل المیہ اس کے بعدشروع ہوتاہے۔ تابکاری کے زخم نسلوں تک جسموں اورزمینوں میں سرایت کرتے رہیں گے۔ تابکاری کی وہ پوشیدہ آگ نسلوں کے جسموں میں نہ صرف بیماریوں کابیج بودیتی ہے بلکہ زمین کے ذروں،پانی کے قطروں اورفضا کی لہروں میں سرایت کرکے نسلوں تک اپنااثر چھوڑتی ہے۔، زمین کی زرخیزی کوماند کردیتی ہے اورہوامیں ایک ایسازہرگھول دیتی ہے جس کی بازگشت دہائیوں تک سنائی دیتی رہتی ہے۔
گویاایٹمی تباہی صرف ایک ملک کی بربادی نہیں بلکہ انسانیت کے مشترکہ مقدرپرلکھی جانے والی ایک اندوہناک داستان ہوتی ہے۔پوری دنیاکامشترکہ المیہ بن جاتی ہے،کیونکہ اس کیاثرات سرحدوں کی دیواریں پھلانگ کرانسانیت کے اجتماعی مقدرکومتاثرکرتے ہیں۔یہ وہ زخم ہے جووقت کے مرہم سے بھی مکمل طورپرنہیں بھرتا۔یوں ایک ایٹمی حملہ صرف ایک قوم کی بربادی نہیں بلکہ پوری دنیا کی اجتماعی تقدیرپرایک تاریک سایہ ڈال دیتاہے۔تاریخ گواہ ہے کہ ایٹمی حملے کے اثرات صرف ایک قوم یاایک خطے تک محدودنہیں رہتے بلکہ پوری انسانیت کی اجتماعی تقدیرپرایک تاریک سایہ ڈال دیتے ہیں۔
یوں ایک ایٹمی حملہ صرف ایک ملک کانہیں بلکہ پوری دنیاکامشترکہ سانحہ بن جاتاہے،کیونکہ اس کے اثرات سرحدوں اورسمندروں سے ماوراہوکرپوری انسانیت کی تقدیرپراثر انداز ہوتے ہیں۔گویایہ ایساپتھرہے جواگرعالمی جھیل میں پھینکاجائے تواس کی لہریں دوردور تک پھیلتی چلی جاتی ہیں۔اوریہ بھی یادرکھیں کہ ایران پراس کے اثرات محض عسکری یا جغرافیائی حدوں تک محدود نہ رہیں گے بلکہ اقوام عالم کواس غلطی کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔گویاایک شہرکی تباہی دراصل پوری انسانیت کے مستقبل کولرزادیتی ہے۔
ایران کے پڑوس میں آباد ممالک بھی اس قیامت خیزمنظرنامے سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ایران کے گردوپیش پھیلاہوا جغرافیہ بھی اس سانحے سے محفوظ نہ رہ سکے گا۔خلیجی ریاستیں ،جوآج عالمی سیاست کے نازک توازن پرقائم ہیں، جن کی معیشتیں اوربستیاں اسی خطے کی فضاں سے بندھی ہوئی اورجوآج سیاسی مفادات کے نازک سہارے پرکھڑی ہیں، تابکاری کے اثرات سے کیسے بچ سکیں گی؟ ایران کے ہمسایہ ممالک ترکی اورپاکستان بھی اسی جغرافیائی دائرے میں سانس لیتے ہوئے بدن ہیں،جہاں سرحدیں کاغذی لکیروں سے زیادہ کچھ نہیں ہوتیں۔ہواکی سمتیں اورتابکاری کے بادل کسی سرحدکونہیں پہچانتے اورہواکے دوش پرسفرکرنے والی آفتیں کسی سیاسی معاہدے کی پابند نہیں ہوتیں۔اورنہ ہی یہ کسی ویزے یاپاسپورٹ کے محتاج ہوتے ہیں۔ایسے میں وہ عرب حکمران بھی اس ہولناک حقیقت کاسامناکرنے پرمجبورہوں گے جنہوں نے سیاسی قربت کے اظہارمیں امریکی قیادت،خصوصاٹرمپ اوران کے خاندان کوہیرے،موتی، شاہانہ قیمتی تحائف اوراعلی اعزازات سے نوازا۔(جاری ہے)