صبح قیامت۔۔ 15دسمبر

امجد علی

دسمبر کی ٹھٹھرتی صبح تھی۔ آفتاب نے حسب معمول آنکھ کھولی تو چاندی جیسی جھلملاتی نرم نرم گرم گرم کرنیں گھروں کے صحنوں میں اترنے لگیں۔ پرندے گھونسلوں سے نکل کر غول در غول تلاش رزق میں اڑتے خاموش فضا میں نغمگی بکھیرتے سریلی چہکار گھول رہے تھے گھروں میں الارم بجے، کمروں میں روشنی پھیلی، اور بچوں کی سکول کے لیے تیاری زور پکڑ رہی تھی۔ ماں نے ناشتہ جلدی میں پلیٹ میں رکھا، کسی نے دودھ کا گلاس بچے کے ہاتھ میں تھمایا، کسی باپ نے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے کہا جلدی کرو، بس انے ہی والی ہے۔ یونیفارم استری شدہ ہے، جوتے دروازے کے پاس قطار میں رکھے ہیں، موزے  صوفے کے پیچھے ہیں پہن لو۔ بالوں میں تیل کی چمک اور ہلکی سی خوشبو، بستے میں رکھی کاپیاں، اور آج کے ٹیسٹ کی بیچینی سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا ہر سکول کی صبح میں ہوتا ہے۔

کہیں ٹفن بند کرتے ہوئے امی ہدایت دے رہی تھی بیٹی اسے وقفے میں ضرور کھا لینا، کچھ نے گھر سے نکلتے بچوں کو ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا واپس آ کر بتانا آج کیا پڑھایا گیا۔ دروازے پر کھڑے والدین کے چہروں پر اجلے نمایاں تھی اور اطمینان بھی کہ بچے محفوظ جگہ جا رہے ہیں، اسکول جا رہے ہیں، مستقبل کی طرف بڑھنے والی نسل کے بڑھتے قدم  دیکھ کر والدین خوش تھے۔ گاڑیوں کے دروازے بند ہوئے، موٹر سائیکلوں کے انجن اسٹارٹ ہوئے، ماووں کے ہاتھ ہوا میں لہرا گئے، کہیں وین والا ہارن دئیے جا رہا تھا۔ بکھرتی مسکراہٹوں میں سب روانہ ہوئے۔ کسی کو کب خبر تھی کہ یہ صبح، جو بظاہر ہر صبح جیسی ٹھندی اجلی ہی تھی، تاریخ میں ایک ایسے زخم کی صورت لہو رنگ لفظوں سے لکھ دی جائے گی جس کا درد شائید وقت کبھی سمیٹ نہیں پائے گا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ آج گھروں سے علم کے سفر پر نکلنے والے چاند جیسے روشن پیارے نور بھرے چہرے کبھی گھروں کو واپس نہیں لوٹ پائیں گے۔

یہ سولہ دسمبر دو ہزار چودہ کی یوم عاشور جیسی غمناک صبح تھی جب آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور میں کلاسیں جاری تھیں آڈیٹوریم میں ٹریننگ چل رہی تھی کسی کو کب اندازہ تھا کہ چند لمحوں بعد یہ جائے تدریس، قہقہوں اور امیدوں کی بجائے بارود، چیخوں اور خون سے بھر جائے گی۔ 

صبح تقریباً دس بجے مسلح حملہ آور دیواریں پھلانگ کر اسکول میں داخل ہوئے۔ اچانک تڑ تڑ فائرنگ اور بارود کی گھن گرج کی آوازیں سماعت چیر رہی تھیں۔ کلاس رومز، راہداریوں اور ہال میں بھاگتے قدم، گرتے وجود اور سسکتی سانسیں بکھر گئیں۔ مستقبل کے معمار، معصوم بچے جن کے ہاتھوں میں قلم تھے، گولیوں کا نشانہ بنے۔ اساتذہ نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر بچوں کو بچانے کی کوشش بھرپور سعی کی۔ چند ہی لمحوں میں مکتب، مقتل بن چکا تھا۔ چیخ و پکار، آہ و فغاں تھی ایک کہرام ہر جانب برپا تھا

جیسے ہی خبر باہر پہنچی، پورے ملک میں کہرام مچ گیا۔ گھروں میں بیٹھے والدین کے دل برفیلے سینوں میں ساکت ہو گئے دھڑکنا ہی بھول گئے۔ ہر زبان پر ایک ہی دعا تھیںیا رب میرا بچہ محفوظ ہو۔ ٹی وی اسکرینوں پر چلتی تصاویر نے صدمے کو اور گہرا کر دیا۔ یہ صرف ایک حملہ نہیں تھا، یہ قوم کے سینے پر کیا گیا وار تھا۔

اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے اسے جاری فوجی کارروائیوں کا بدلہ قرار دیتے قبول کر لیا۔ ملکی 
اور بین الاقوامی میڈیا نے اسے درندگی کی بدترین مثال کہا۔ 
فوری طور پر سیکیورٹی فورسز، ادارے خصوصاً اسپیشل سروسز گروپ، نے فوری طور پر سکول کی عمارتوں کو گھیرے میں لیا اور درندہ صفت شیطانوں کو ڈھونڈ کر گرفت میں لیا اور چن چن کر  واصل جہنم کیا۔ کئی گھنٹوں پر محیط آپریشن کے بعد تمام حملہ آوروں کو ہلاک کر کے یرغمال بنے طلبہ اور عملے کو بازیاب کرایا۔ مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ ایسے نان سٹیٹ فیکڑز سے نمٹنے کے لیے صرف عسکری کارروائی کافی نہیں انتہا پسندی کے رویوں کی آبیاری والے اسباب، غربت، جہالت، روایت پرست پروپیگنڈا کے خلاف طویل المدت تعلیمی، اقتصادی اور سماجی پروگرام ضروری ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ جرائم پیشہ افراد اور گروہوں کی ڈیٹا کولیکشن پروسیسنگ اور مکمل نیٹ ورکس کو ایڈوانس انٹیلیجنس کے ذریعے بے نقاب کرنا اور بروقت کاروائیاں کرکے ان کو نشان عبرت بنانا ازحد ضروری ہے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہئیے تھا جس میں افغان ایلیمنٹ کے نیٹ ورک کا قلعہ قمع اشد ضروری ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس سانحے میں 147 سے زائد افراد شہید ہوئے، جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔ سینکڑوں زخمی ہوئے۔ کئی خاندان ہمیشہ کے لیے اجڑ گئے۔ شہیدوں کی تعداد محض نمبر نہیں تھے، یہ والدین کے بچوں کو ڈاکٹر انجینئر اور کمیشنڈ آفیسر بنانے کے وہ خواب تھے جو ادھورے رہ گئے، وہ مسکراہٹیں تھیں جو ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئیں۔

ایسے بڑے دلخراش کیسز میں شفاف تحقیقات، متاثرین کے خاندانوں کو بروقت معلومات سے آگاہی اور شواہد تک رسائی، اور جس حد تک ممکن ہو، شواہد کی بنیاد پر انصاف  اور ان کی شفافیت پر عوامی اعتماد حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیئے تھی۔ احسان اللہ احسان جیسے ناموں کے معاملے میں ابہام، شکوک و شبہات میں اٹی خبروں نے متاثرین میں بے چینی بڑھائی ایسے میں حکومتی ذمداری اور زیادہ اہم تھی۔ اس موقعہ پر حکومتی اداروں کی فرائض کی انجام دہی میں ناکامی اور نقائص بھی کھل کر سامنے اتے ہیں جن میں ہنگامی بنیادوں پر فوری طور بہتری کی اشد ضرورت ہے تب ہی ایسے بھیانک واقعات سے نجات پائی جاسکے گی۔


حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضوں اور امداد کا اعلان کیا، طبی سہولیات فراہم کی گئیں، مگر جن کے خوشبو، خوشیاں لوٹاتے بولتے ننھے پھول خون نہا گئے صدمہ انکے دلوں میں تحلل کر چکا تھا، اس کا مداوا کیونکر ممکن ہوگا۔ زخم ایسے تھے کہ برسوں بعد بھی کئی بچے اور والدین آجتک ذہنی دباؤ، خوف اور اس اذیت کا شکار رہے جو وقت کے ساتھ شائید بھر تو جائیں، مگر اپنا نشان نہیں چھوڑتے۔

تحقیقات اور عدالتی کارروائیاں ہوئیں، فوجی عدالتوں کے ذریعے بعض ملزمان کو سزائیں دی گئیں، اور اس سانحے کے بعد سزائے موت پر عائد پابندی ختم کر دی گئی۔ نیشنل ایکشن پلان نافذ ہوا، تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی سخت کی گئی، اور دہشت گردی کے خلاف بیانیہ مزید واضح ہوا۔ تاہم بعض کرداروں، خصوصاً احسان اللہ احسان جیسے ناموں کے گرد ابھرنے والے شکوک و شبہات نے متاثرہ خاندانوں کے دلوں میں سوالات اور بے چینی کو زندہ رکھا۔

یہ حملہ صرف بچوں پر نہیں تھا، قوم کے شاندار مستقبل پر حملہ تھا۔ اس کا مقصد خوف پھیلانا، تعلیمی عمل کو مفلوج کرنا اور قوم کی نفسیات کو توڑنا تھا۔ مگر اس کے برعکس، اس سانحے نے پورے ملک کو ایک لڑی میں پرو دیا۔ اساتذہ، والدین، طلبہ اور سول سوسائٹی نے مل کر یہ عہد کیا کہ تعلیم کو دہشت کے آگے جھکنے نہیں دیا جائے گا۔

آج بھی آرمی پبلک اسکول پشاور کا سانحہ قوم کے ضمیر پر نقش ہے۔ وہ بچے، وہ اساتذہ، وہ لہو میں نہائے سرخ بستے ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ یہ جنگیں صرف بندوقوں سے نہیں، نظریات، شعور اور انصاف سے جیتی جاتی ہیں۔ اگر ہم نے ان معصوم جانوں کی قربانی کو محض ایک تاریخ بنا دیا، اگر ہم نے شفاف انصاف، مستقل تحفظ اور انتہا پسندی کے خاتمے کا عزم توڑ دیا، تو یہ زخم پھر ہرا ہو جائے گا۔ یہ ہمارے لیے ایک سوال بھی ہے اور ایک وصیت بھی، کہ آنے والی نسلوں کے ہاتھ میں قلم محفوظ ہو، کتاب خوف سے آزاد ہو، اور اسکول کبھی دوبارہ میدان جنگ نہ بنے۔

اے پی ایس پشاور کا سانحہ ایک ایسا زخم ہے جو قوم کے ضمیر پر گہری چوٹ ہے۔ بچوں کی لاشیں صرف اعداد و شمار نہیں وہ قوم کا تابناک مستقبل تھے، امیدیں تھیں۔ دشمن کا مقصد معاشرے کو خوفزدہ کرنا تھا مگر اس قوم نے دکھ کو مزاحمت، اتحاد اور بچوں کی یاد میں مضبوط عزم میں تبدیل کیا۔ انصاف اور حفاظتی اصلاحات، متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور انتہا پسندی کے جڑوں کو ختم کرنے کے لیے مستقل اور شفاف کوششیں جاری رہنا چاہیئں  تاکہ ایسے المناک واقعات دوبارہ نہ ہوں اور ہمارے بچوں کا حق تعلیم محفوظ رہے۔


 ایسے المیہ کو بیان کے لیے الفاظ کبھی ساتھ نہیں دیتے۔ اس سانحہ سے متعلق زندہ ہیں شاہین ناول کے خالق نوید مرزا کے اشعار یاد آ رہے ہیں۔۔ ان کی بچھائی صف غم میں شامل ہوتے ہیں

مری آنکھوں میں آنسوں ہیں
مگر پلکوں کے دروازوں نے ان کو روک رکھا ہے
میں دریاوں کی صورت دیر تک
رونے کی خواہش میں
لہو ہوتی ہوئی سانسوں کو
زندہ تر تو رکھتا ہوں
مگر معصوم بچوں کی وہ چیخیں یاد آتی ہیں
تو میں دل کے کسی کونے میں ساکت بیٹھ جاتا ہوں 
مجھے رونا نہیں آتا
مجھے رونا نہیں اتا

آخر میں دعاء￿  ہے اللہ شہدا کے درجات بلند فرما کر انہیں جنت کے اعلی محلات میں جگہ عطاء￿  کرے۔ ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک کو ان ننھے فرشتوں کو انکی مغفرت کا ذریعہ بنائے۔ والدین کو اپنے جگر گوشوں کی جدائی کے کوہساری غم کو سہنے اور بھولنے کی توفیق دے انہیں پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت نعمت سے نوازے۔ امین۔۔