اسلام آباد، (خصوصی رپورٹ)اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام، چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی عدالت نے سپرنٹنڈ نٹ اڈیالہ جیل کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں کے متعلق درخواست میں تمام متعلقہ کیسز یکجا کرکے لارجر بنچ بنانے کی ہدایت کردی۔گذشتہ روز رجسٹرار آفس اعتراضات کے ساتھ درخواست پر سماعت کے دوران سپرنٹنڈ نٹ جیل عبد الغفور انجم کی طرف سے نوید ملک ایڈووکیٹ پیش ہوئیاورموقف اختیار کیاکہ بانی پی ٹی آئی ملاقاتوں کی درخواستیں مختلف بنچز میں سماعت کے لیے مقرر ہیں،بانی پی ٹی آئی ملاقاتوں کی درخواستیں یکجا کر کے لارجر بنچ تشکیل دیا جائے،اڈیالہ جیل کے ہزاروں قیدیوں کے معاملات سپرنٹنڈ نٹ نے دیکھنے ہوتے ہیں،ہفتہ میں پانچ دن ان کو اسلام آباد ہائیکورٹ پیش ہونا پڑتا ہے،ایک ہی بنچ میں کیسز مقرر ہونے سے ایک پی دفعہ وہ پیش ہو جایا کریں گے۔ادھر بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جانب سے 190 ملین پا ئونڈز ریفرنس میں احتساب عدالت سے دی گئی سزا معطلی کیلئے رواں ہفتے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جائے گی، سزا معطلی درخواست تیار کرلی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت کو یقین دہانی کراتے ہیں سزا معطلی کے بعد اپیل کی ہر سماعت میں موجود ہوں گے، عدالت سے استدعا کی جائے گی کہ 17 جنوری کو سنائی جانے والے سزا معطل کرکے ضمانت پر رہائی دی جائے ، مرکزی اپیل کے حتمی فیصلے تک فیصلہ اور سزا معطل کئے جائیں ، بیرسٹر سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی جانب سے درخواستیں تیار کیں۔ احتساب عدالت نے جرم ثابت ہونے پر بانی پی ٹی آئی کو 14 سال قید جبکہ بشری بی بی کو 7 سال قید اور جرمانوں کی سزا کا فیصلہ سنایا تھا۔ادھر انسدادِدہشتگردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت نے 26 نومبر احتجاج پر درج مقدمات میں بشری بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی۔ عدالت نے دونون مقدمات کی سماعت 5 مئی تک ملتوی کردی۔بشریٰ بی بی کیخلاف تھانہ کھنہ اور کوہسار میں مقدمات درج ہیں۔دوسری طرف اسلام آبادہائیکورٹ کے حکم کے باوجود عدالتی کمیشن کی ملاقات بانی پی ٹی آئی سے نہ کروائے جانے کا انکشاف ہوا ہے، عدالت نے سپرنٹنڈ ٹ جیل کو ہفتہ کے روز 11 سے 12 کے درمیان ملاقات کرانے کا حکم دیا تھااورجسٹس سردار اعجاز اسحاق نے اپنی لا کلرک سکینہ بنگش کو کمیشن مقرر کیا تھااور سپرنٹنڈ نٹ اڈیالہ جیل عبد الغفور انجم کی موجودگی میں عدالت نے کمیشن کی ملاقات کا حکم دیا تھا، ذرائع کے مطابق ہفتہ کے دن کمیشن تقریبا 3 گھنٹے اڈیالہ جیل کے اندر رہا۔کمیشن کو سپرنٹنڈ نٹ اڈیالہ جیل کے متعلقہ آفس میں انتظار کرایا گیا،کمیشن کی عدالتی حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کروائی گئی۔مشال یوسفزئی بانی پی ٹی آئی کی وکیل ہیں یا نہیں ؟ کمیشن کے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں پوچھنا تھابانی پی ٹی آئی کی عدالت میں جمع کرائی گئی لسٹ سے متعلق بھی کمیشن نے پوچھنا تھا،عدالت نے چار سوالات بانی پی ٹی آئی سے پوچھنے کا حکم دیا تھا۔علاوہ ازیں لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کی بانی پی ٹی آئی کیخلاف بیانات اور تقاریر پر پابندی کی درخواست کو 7 اپریل کو سماعت کیلئے مقرر کرنے کی ہدایت کردی۔