مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت سے متعلق مبینہ کوششیں، تنازع شدت اختیار کر گیا

مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت سے متعلق مبینہ کوششیں، تنازع شدت اختیار کر گیا

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور مسجد اقصیٰ کے حوالے سے جاری حساس صورتحال کو ظاہر کرتی ہے۔

 اسرائیلی حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند رہنماؤں پر الزام ہے کہ وہ امریکا کے بعض حلقوں کے تعاون سے مسجد اقصیٰ کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں تبدیلی کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی حکام مسجد اقصیٰ کو ’کثیر المذاہب عبادت گاہ‘ قرار دینے کی تجویز پر کام کر رہے ہیں، جس کے خلاف فلسطینی اور عرب ممالک نے شدید اعتراضات ظاہر کیے ہیں۔ موجودہ اسٹیٹس کو کے تحت، غیر مسلم افراد مسجد کا دورہ تو کر سکتے ہیں، مگر عبادات یا رسومات کی اجازت نہیں ہے۔انتہا پسند سیاست دان اور رہنماؤں کی طرف سے مسجد اقصیٰ میں یہودی عبادات کو فروغ دینے اور نئی عبادت گاہ بنانے کے بیانات، علاقائی کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔ موشے فیگلن اور اتمار بن گویر جیسے رہنماؤں کے حالیہ اقدامات، جیسے مسجد اقصیٰ کے اندر مذہبی نغمے گانا اور اسرائیلی جھنڈا لہرانا، فلسطینیوں اور دیگر عرب ممالک کی جانب سے سخت ردعمل کا سبب بن رہے ہیں۔اسرائیلی حکومت نے اس قسم کی تبدیلیوں کا انکار کیا ہے، مگر فلسطینی، اردن اور دیگر علاقائی ممالک کی تشویش موجود ہے۔

 اسلامی وقف کونسل کے نائب سربراہ ڈاکٹر مصطفیٰ ابو سوئے نے خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی حیثیت میں مداخلت پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اور اس سے کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔دریں اثنا، مغربی کنارے کے فلسطینی دیہات میں مساجد پر حملے بھی جاری ہیں، جن میں ایک مسجد کو آگ لگا دی گئی اور عبرانی زبان میں اشتعال انگیز نعرے لکھے گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے ملزمان کی تلاش جاری رکھی ہے۔یہ تمام واقعات اس وقت سامنے آ رہے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور مسجد اقصیٰ کی حیثیت سے متعلق عالمی توجہ ایک بار پھر بڑھ رہی ہے، جو کہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے ایک اہم اور حساس معاملہ ہے۔