صوبے کے بجٹ کا مجموعی حجم 3562 ارب روپے سے زائد ہے‘ ترقیاتی مد میں 720 ارب مختص ‘ غیر ترقیاتی اخراجات کیلئے 2560 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
سرکاری ملازمین کے 2022 اور 2025 کے ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو ضم کرنیکا فیصلہ ‘2 لاکھ 75 ہزار افراد کو مفت سولر سسٹم دیا جائیگا:مراد علی شاہ‘اپوزیشن کا احتجاج ‘واک آئوٹ
کراچی (آن لائن) سندھ حکومت نے مالی سال 2026-27 کا صوبائی بجٹ پیش کر دیا جس کا مجموعی حجم 3562 ارب روپے سے زائد ہے۔بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ تنخواہوں کے ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2022 اور ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2025 کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے‘ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کیا، جس کے دوران اپوزیشن نے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کی، جس پر ایوان میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوگئی اور بعد ازاں اپوزیشن اراکین نے واک آؤٹ کر دیا۔بجٹ اجلاس سپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر اپوزیشن نے بجٹ میں اعتماد میں نہ لینے پر شدید احتجاج کیا اور شور شرابہ شروع کر دیا۔ اپوزیشن رہنما علی خورشیدی نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے بجٹ سازی کے عمل میں اپوزیشن کو شامل نہیں کیا۔بجٹ تقریر کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ ان کا مسلسل گیارہواں بجٹ ہے جو ان کے لیے باعثِ اعزاز اور بھاری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا جبکہ عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔انہوں نے کہا غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 2560 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 720 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار روپے کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ 2022 اور 2025 کے ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ نے این ایف سی ایوارڈ میں اپنے آئینی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور صوبہ وفاق کی مضبوط اکائی ہے۔ انہوں نے زراعت، تعلیم، روزگار اور انشورنس کے شعبوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیجز کا بھی اعلان کیا۔بجٹ میں تعلیم کے لیے 25.9 ارب روپے اور صحت کے لیے 17.4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سیلاب متاثرین کے لیے گھروں کی تعمیر کے منصوبے کے تحت 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ آبپاشی منصوبوں کے لیے 30.9 ارب روپے رکھے گئے ہیں