خیبرپختونخوا:48ارب خسارے کا بجٹ پیش‘وفاق کو گرانٹ دینے سے انکار تنخواہوںپنشن میں7فیصد اضافہ

 2122 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا‘کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار  سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی سفارش  ، اخراجات کا تخمینہ 2 ہزار 170 ارب روپے لگایا گیا، سالانہ ترقیاتی پروگرام   کے لئے 524 ارب روپے مختص
5 مرلے تک رہائشی اور کمرشل پراپرٹی  کیلئے ٹیکس چھوٹ‘ہوٹل بیڈ ٹیکس کو 7  سے کم کرکے 5 فیصد اور کم ازکم ماہانہ آمدنی والے افراد پر پروفیشنل ٹیکس ختم کرنے، گریڈ ایک سے 6 تک ملازمین کو پروفیشنل ٹیکس سے مستثنیٰ قراردینے کی تجویز 
 عمران خان سے ملنے نہیں دیا جاتا تب تک کوئی ڈرافٹ سائن نہیں کریں گے، ملاقات نہ ہونے تک کوئی گرانٹ بھی فائل نہیں ہوگی :سہیل آفریدی کی بجٹ تقریر‘ بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن  ارکان کا احتجاج‘نعرے لگاتے رہے
 پشاور(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک )    پشاور   وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مالی سال 2026-27 کا صوبائی بجٹ پیش کر دیا، جس کا مجموعی حجم 2 ہزار 122 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ 48 ارب روپے کے بجٹ خسارے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔صوبائی اسمبلی میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے نعرے لگائے۔  بجٹ تقریر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی آمدن کا تخمینہ 2 ہزار 122 ارب روپے جبکہ اخراجات کا تخمینہ 2 ہزار 170 ارب روپے لگایا گیا ہے، بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام(اے ڈی پی)کے لیے 524 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔سہیل آفریدی نے بتایا کہ موجودہ مالی سال کے دوران 7 ہزار 952 نئی آسامیاں تخلیق کی گئیں، 1100 سرکاری اسکولوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا جبکہ ضم شدہ اضلاع کے 10 ہزار طلبا و طالبات میں فی طالب علم 9 ہزار روپے تقسیم کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے رواں مالی سال میں 4.29 ارب روپے جاری کیے گئے، جبکہ نئے بجٹ میں ضلعی حکومتوں کے لیے 52.8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے 29 ارب روپے جبکہ ایکسلریٹڈ امپلیمنٹیشن پروگرام (AIP) کی مد میں 52 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔وزیراعلی کے مطابق بیرونی امداد اور قرضوں کی مد میں 150 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت 5 ارب 18 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے، جاری اخراجات کے لیے ایک ہزار 645 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ امن و امان کے لیے 191 ارب روپے، گڈ گورننس روڈ میپ کے لیے 20 کروڑ روپے، احساس مستحق پروگرام کے لیے 15 ارب روپے اور صحت کارڈ پروگرام کے لیے 50 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایم ٹی آئی ہسپتالوں کے لیے 80 ارب روپے، بحالی پروگرام کے لیے 36 ارب روپے، پشاور بی آر ٹی کے لیے 7.5 ارب روپے اور خوشحال ہزارہ پروگرام کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔بجٹ میں اقلیتی برادری کی خود کفالت کے لیے 51 ملین روپے، احساس کسان پروگرام کے لیے 2 ارب روپے اور بیرون ملک روزگار کے خواہشمند افراد کو بلا سود قرضوں کی فراہمی کے لیے 2 ارب روپے رکھنے کی تجویز بھی شامل ہے‘ 5 مرلے تک رہائشی اور کمرشل پراپرٹی اور کم آمدنی والے ملازمین کے لیے ٹیکس چھوٹ کی تجویز ہے‘ ہوٹل بیڈ ٹیکس کو 7 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد اور کم ازکم ماہانہ آمدنی والے افراد پر پروفیشنل ٹیکس ختم کرنے، گریڈ ایک سے 6 تک کے ملازمین کو پروفیشنل ٹیکس سے مستثنیٰ قراردینے کی تجویز دی گئی ہے۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صنعتی عمارات کے لیے ٹیکس بقایاجات پر30 فیصد چھوٹ کی تجویز دے دی گئی ہے۔خیبرپخونخوا حکومت نے سابقہ فاٹا اور پاٹا کے لیے ٹیکس ریلیف پالسی برقرار رکھا ہے اورکہا ہے کہ اگلے مالی سال کے لیے فاٹا اور پاٹا پر کوئی نیا ٹیکس نافذ نہیں کیا گیا۔ سہیل آفریدی نے کہا  جب تک بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملنے نہیں دیا جاتا تب تک کوئی ڈرافٹ سائن نہیں کریں گے۔ بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ  ہمارا مطالبہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی کا بہترین اسپتال میں علاج ہو، ملاقاتیں بحال ہوں، عمران خان سے ملاقات نہ ہونے تک کوئی گرانٹ بھی فائل نہیں ہوگی۔وزیراعلیٰ نے کہا  خیبرپختونخوا کے عوام نے تیسری بار مسلسل تحریک انصاف پراعتماد کیا ہے ، مزمل اسلم نے بہترین انداز میں فنانس کو چلایا ہے، تمام پارلیمنٹرین کا مشکورہوں کہ دن رات بجٹ پر کام کیا۔سہیل آفریدی نے کہا 92 ایم پی ایز نے مل کر فیصلہ کرلیا ہے کہ بجٹ پیش کریں گے