بلوچستان کا 1028ارب کا بجٹ، تنخواہوں ‘ پنشن میں اضافہ‘6ہزارغیرضروری اسامیاں ختم

موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے 500ملین روپے  رکھے گئے ہیں‘ بچت سکیم کے تحت صوبائی حکومت کوئی گاڑی نہیں خریدے گی
تنخواہوں میں10‘پنشن میں7فیصد اضافہ ہوگا‘ مختلف شعبوں میں 4188 عارضی اور1958 ریگولر اسامیاں پیدا کی جارہی ہیں:وزیرخزانہ

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچستان اسمبلی کا بجٹ پیش کردیا گیا، ،وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی بجٹ پیش کیا۔بجٹ کا مجموعی ججم 1028 ارب روپے تھاجب کہ 36اعشاریہ 5 ارب روپے کا سرپلس بجٹ پیش کیا گیا،غیر ترقیاتی بجٹ 642 ارب روپے، فارن فنڈڈ پراجیکٹس 38 ارب روپے، سوئی گیس لیز ایکسٹنشن بونس 24 ارب ، کیپیٹل محصولات 38 ارب رکھا گیا، اخراجات کا کل میزانیہ 991 اعشاریہ 5 ارب روپے اور وبائی پی ایس ڈی پی کیلئے 245 ارب روپے رکھا گیا۔ ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد جبکہ پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے‘وزیر خزانہ بلوچستان نے کہا  ترقیاتی شعبہ میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کو پہلی ترجیح دی گئی ہے، محکمہ مواصلات کے لئے ترقیاتی بجٹ کا 19 فیصد مختص کیا گیا جس کیلئے 55 ارب 21 کروڑ سے زائد کی رقم رکھی گئی اور غیرترقیاتی امورکیلیے17ارب48کروڑمختص کیے گئے۔ سکول ایجوکیشن کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 19 ارب 85 کروڑ مختص کیے گئے ہیں، ہائر ایجوکیشن کے لئے ترقیاتی بجٹ 4 ارب 99 کروڑ، شعبہ کالجزکیغیر ترقیاتی بجٹ کے لیے24 ارب اور ترقیاتی امور کے لیے 5ارب مختص کیے گئے ہیں، جب کہ صحت کے شعبہ کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 16 ارب 15 کروڑ مختص کیے گئے۔ معدنیات اور کان کنی کے شعبہ کی ترقی کے لئے 56 کروڑ 76 لاکھ مختص کیے گئے ، ترقی نسواں کے محکمہ کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 15 کروڑ 40 لاکھ رکھے گئے ہیں۔میر شعیب نوشیروانی  نے کہا ہے غیرضروری6ہز اراسامیاں ختم کی گئیں، 8شہروں میں سیف سٹی منصوبے کیلئے18ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے 500ملین روپے مختص رکھے گئے ہیں۔ بچت سکیم کے تحت صوبائی حکومت کوئی گاڑی نہیں خریدے گی، صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے گاڑیاں خریدی جائیں گی، مختلف شعبوں میں 4188 عارضی اور1958 ریگولر اسامیاں پیدا کی جارہی ہیں۔