آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں وزیر خزانہ عبدالماجد خان نے مالی سال 2025–26 (26–2025ء) کا ٹیکس فری بجٹ پیش کیا، جس کا کل حجم 310 ارب 20 کروڑ روپے ہے—جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 30٪ اضافہ ہے۔
کل تخمینے
کل بجٹ سائز: 310.20 ارب روپے
ترقیاتی اخراجات: 49 ارب روپے
غیر ترقیاتی اخراجات: 261 ارب روپے
حکومت کا دعویٰ: خالی ناہ (deficit-free) بجٹ
تنخواہوں، پنشن اور دیگر مراعات
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10٪ اضافہ اور پنشن میں 7٪ اضافہ وفاق کے مطابق
بایومیٹرک حاضری نظام تمام محکموں میں نافذ
سیکٹرل تفصیلات
صحت
ہیلتھ کارڈ پروگرام کے نفاذ پر 2 ارب روپے
مفت ادویات کی فراہمی کے لیے 1.5 ارب
تعلیم
2.4 ارب قرضہ اسکولوں کی اپ گریڈیشن اور نئے اداروں کے قیام پر
اساتذہ کی کمی کے حل کے لیے
خوراک
آٹے کی قیمتیں کم رکھنے کے لیے 38 ارب سبسڈی
دیگر شعبے
آئی ٹی و انفارمیشن: 1.5 ارب
توانائی و پانی، ٹرانسپورٹ, ماحولیات، زرعی ترقی، سروسز و ایڈمنسٹریشن میں مناسب تخصیصات
سیاسی اور پارلیمانی صورتحال
اپوزیشن نے اسمبلی کے دروازے بند کر کے احتجاج کیا، اجلاس میں تاخیر ہوئی
وزیر خزانہ نے اپوزیشن پر پارلیمانی طریقۂ کار کو توڑنے کا الزام لگایا
تجزیہ
تاریخی اضافہ: یہ آزاد کشمیر کا اب تک کا سب سے بڑا بجٹ ہے، جس میں صحت، تعلیم اور عوامی مراعات کو ترجیح دی گئی ہے
عوام دوست اقدامات: بجٹ کے بنیادی ہدف عوام کی فلاح و بہبود، سستے آٹے، مفت دوائیں، تنخواہ و پنشن اضافہ
مالی نظم و ضبط: غیر ترقیاتی اخراجات کے کنٹرول اور خالی ناہ بجٹ سے مالی شفافیت کا عندیہ
چیلنج: سیاسی اختلافات کی وجہ سے قانون سازی کے عمل میں رکاوٹ، آیندہ ایوان میں متنازعہ مرحلے ممکنہ