آبنائے ہرمز کے حوالے سے ممکنہ کشیدگی اور اس کے اثرات پر بین الاقوامی میڈیا میں جاری تجزیوں کے مطابق ایران کو اس صورتحال میں شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کے باعث تہران نے روس کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔
حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تعاون، اقتصادی روابط اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔الجزیرہ کے تجزیے کے مطابق ایران اور روس کے درمیان تجارتی حجم میں حالیہ برسوں میں اضافہ ہوا ہے، جو 2024 میں تقریباً 4.8 ارب ڈالر تک پہنچا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ سطح اب بھی محدود ہے کیونکہ دونوں ممالک کی برآمدی مصنوعات میں زیادہ تنوع نہیں پایا جاتا اور دونوں تقریباً ایک جیسے شعبوں میں پیداوار رکھتے ہیں، جس سے وسیع تجارتی مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا اہم راستہ “انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور” ہے، جو بحیرۂ کیسپیئن کے ذریعے سامان کی ترسیل ممکن بناتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ راستہ آبنائے ہرمز کا مکمل متبادل نہیں بن سکتا، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور سمندری تجارت کا ایک انتہائی اہم اور سستا راستہ ہے، جس پر ایران کی تقریباً 90 فیصد تجارت کا انحصار ہے۔
تجزیے کے مطابق روس مختصر مدت میں ایران کو خوراک، صنعتی مصنوعات اور کچھ لاجسٹک سپورٹ فراہم کر سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں وہ ایران کی معیشت خصوصاً تیل کی برآمدات کے خلا کو مکمل طور پر پر نہیں کر سکتا۔مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ روس خود بھی یوکرین جنگ اور مغربی پابندیوں کے باعث معاشی دباؤ کا شکار ہے، جس کی وجہ سے ایران میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اس کے لیے آسان نہیں۔الجزیرہ کے مطابق بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ روس کے لیے ایران کے ساتھ تعاون اس لحاظ سے فائدہ مند ہو سکتا ہے کہ اس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں اور دونوں ممالک کا سیاسی و اسٹریٹجک اتحاد مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ روس ایران کے لیے مکمل معاشی متبادل نہیں بن سکتا بلکہ محدود اور عارضی سہارا ہی فراہم کر سکتا ہے، جبکہ ایران کی معیشت کا بڑا انحصار بدستور عالمی سمندری راستوں خصوصاً آبنائے ہرمز پر ہی رہے گا۔