سینیٹ اجلاس :بجٹ پر بحث سرد پڑ گئی ، ایوان خالی، وزراء غائب

 ایوان میں صرف پانچ اراکین موجود، حکومتی بینچوں پر تین، اپوزیشن بینچوں پر دو سینیٹرز موجودتھے
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے  فائلر اور نان فائلر کے فرق کو کافر و مسلمان کے فرق سے تشبیہ د یدی 
 بجٹ عوام دوست نہیں، سینیٹر وقار مہدی،60فیصد پاکستانیوں سے جینے کا حق چھین لیا ، ایمل ولی 
اسلام آباد (آئی این پی )سینیٹ میں بجٹ اجلاس کے دوران حکومتی و اپوزیشن ارکان کی عدم دلچسپی سامنے آئی ہے ۔ اجلاس میں بجٹ سے متعلق بحث اور سفارشات کا عمل جاری رہا، مگر ایوان میں صرف پانچ اراکین موجود تھے۔ حکومتی بینچوں پر صرف تین اور اپوزیشن بینچوں پر دو سینیٹرز موجود تھے۔ اجلاس میں ایک بھی وفاقی وزیر شریک نہ ہوا جبکہ اپوزیشن لیڈر سمیت بڑی سیاسی جماعتوں کے اہم رہنما بھی غیر حاضر رہے۔اجلاس کے دوران سینیٹر کامران مرتضیٰ نے مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے کو مسلح افراد کے روکنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ فائلر اور نان فائلر کے فرق کو انھوں نے کافر و مسلمان کے فرق سے تشبیہ دی۔سینیٹر محسن عزیز نے بجٹ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ دو جماعتوں نے چالیس سال حکومت کی اور اب اپنی ناکامیاں چھپانے کیلئے پی ٹی آئی کے ساڑھے تین سال کا تذکرہ کرتی ہیں۔ انہوں نے صحت و تعلیم کے شعبے کو نظرانداز کیے جانے پر بھی کڑی تنقید کی۔پیپلز پارٹی کے سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ بجٹ عوام دوست نہیں، اور وزیرخزانہ کو مزدور کے ساتھ ایک دن گزارنے کی دعوت دی۔سینیٹر عامر ولی الدین چشتی نے ایف بی آر کو ملنے والے اضافی اختیارات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کا سب سے زیادہ بوجھ کراچی پر پڑے گا۔سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ وفاق کے پاس بجٹ زیادہ ہے، مگر صوبوں سے تفریق برتی گئی ہے۔ انھوں نے وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کے پی کو ہائیڈل منافع دینے کا مشورہ دیا۔ایمل ولی خان نے کہا کہ پاکستان اپنی معاشی خودمختاری کھو چکا ہے، بجٹ میں عوام کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔ بجٹ نے 60فیصد پاکستانیوں سے جینے کا حق چھین لیا ہے جبکہ وزیروں کی تنخواہیں 600فیصد بڑھا دی گئیں۔سینیٹر عون عباس بپی نے اعجاز چودھری کی جیل میں موجودگی پر سوال اٹھایا اور پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی یاددہانی کرائی۔سینیٹر بلال احمد نے بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ غریب کا کوئی پرسان حال نہیں۔اجلاس کے دوران ارکان نے وزیروں کی عدم شرکت، بجٹ کی غیرمنصفانہ تقسیم، اور عوامی مسائل سے چشم پوشی پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اجلاس کا ماحول غیر رسمی اور مایوس کن رہا، جس نے بجٹ کی اہمیت پر سوالیہ نشان لگا دیا۔