بھارتی سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک کو 20 روزہ بھوک ہڑتال کے بعد نئی دہلی میں احتجاجی مقام سے اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ احتجاج کے منتظمین نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے انہیں زبردستی اسٹیج سے ہٹایا۔
سونم وانگچک 28 جون سے بھارت کے امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف بھوک ہڑتال پر تھے اور وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ نئی دہلی کے جنتر منتر پر جاری اس احتجاج میں سیکڑوں طلبہ بھی شریک تھے۔دہلی پولیس کے مطابق سونم وانگچک کی صحت بگڑنے اور ہائی کورٹ کی ہدایات کے پیشِ نظر انہیں ضروری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران بعض مظاہرین نے مزاحمت کی، جس کے باعث معمولی دھکم پیل بھی ہوئی۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو سونم وانگچک کو احتجاجی اسٹیج سے اٹھا کر لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔احتجاج کے منتظم ابھیجیت دپکے نے الزام لگایا کہ پولیس نے 20 روز سے بھوک ہڑتال پر موجود سونم وانگچک کو زبردستی گھسیٹ کر احتجاجی مقام سے ہٹایا۔اسپتال ذرائع کے مطابق سونم وانگچک ہوش میں ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر اور مستحکم ہے۔