تھائی لینڈّ(نیٹ نیوز)تھائی لینڈ میں خاتون نے درجنوں بدھ مذہبی راہبوں کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کرکے ان کی نازیبا ویڈیوز بنائیں اور بلیک میل کرکے لاکھوں ڈالرز ہتھیالے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تھائی لینڈ میں ایک خاتون کو سینیئر بدھ راہبوں کو ہراساں کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔خاتون کے گھر سے راہبوں کی ہزاروں نازیبا ویڈیوز اور تصاویر برا?مد ہوئیں جن کو بلیک میلنگ کے استعمال کرکے رقم بٹورتی تھی۔ملزمہ ویلاوان ایمساوت کے گھر سے لاکھوں ڈالرز بھی ملے جو راہبوں کو بلیک میل کرکے ہتھیائے گئے تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کے بینک اکاؤنٹس میں صرف 3 برسوں کے دوران تقریباً 385 ملین بٹ (تقریباً 11.9 ملین امریکی ڈالر) کی رقم جمع ہوئی، جس میں بڑی حد تک آن لائن جوئے پر رقم خرچ کی گئی۔تھائی رائل سینٹرل انویسٹی گیشن بیورو (CIB) کا کہنا ہے کہ ویلاوان نامی خاتون نے جان بوجھ کر سینئر بدھ راہبوں کو نشانہ بنایا۔یہ اسکینڈل سامنے کے ا?نے بعد سے اب تک کم از کم 9 سینئر راہبوں کو برطرف کر دیا گیا۔تحقیقات کا آغاز اْس وقت ہوا جب بینکاک کے ایک معروف مندر کے راہب نے اچانک راہبانہ زندگی ترک کر دی۔بعد ازاں انکشاف ہوا کہ ویلاوان نے اس راہب کو بلیک میل کرتے ہوئے کہا کہ وہ حاملہ ہے اور 7.2 ملین بٹ (تقریباً 2 لاکھ 22 ہزار ڈالر) کی رقم کا تقاضا کیا تھا۔بدھ مت کے تھیراوادا فرقے سے تعلق رکھنے والے راہبوں پر خواتین کو چھونے تک کی ممانعت ہے، جبکہ جنسی تعلقات ان کے لیے مکمل طور پر ممنوع ہیں۔ اس اسکینڈل نے نہ صرف مذہبی اقدار بلکہ مندر میں ملنے والے عطیات کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔واقعے کے بعد پولیس نے اعلان کیا ہے کہ راہبوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے ایک فیس بک پیج بنایا جائے گا، جہاں عوام بدسلوکی یا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اطلاع دے سکیں گے۔