پنجاب کی وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان پر شدید تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے منصب پر رہتے ہوئے چوری اور ڈکیتی کرتے پکڑے گئے ہیں، اور ان کے خلاف 100 سے زائد سماعتیں ہو چکی ہیں۔ عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ عمران خان کی کابینہ کے ارکان نے بھی ان کی کرپشن میں معاونت کی، اور مرزا شہزاد اکبر اور فرح گوگی کا اس میں اہم کردار ہے۔وزیراطلاعات نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کی حکومت کے دوران مذہب کا کارڈ استعمال کیا گیا اور اپنے مفادات کے لیے اسلامی ٹچ دینے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی حکومت نے پاکستان کی حکومت سے رابطہ کیا تھا تاکہ 190 ملین پاؤنڈز واپس کیے جائیں، مگر عمران خان اور ان کی بیوی کی جانب سے ڈاکا ڈالا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے سوال کیا کہ اعلیٰ عدالتیں کس طرح ان حقائق کو نظر انداز کر سکتی ہیں، خاص طور پر جب سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں پیسے منتقل کیے گئے اور اس کے بدلے زمین، فرنیچر اور کمپیوٹر خریدے گئے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کی بیوی کی کرپشن کے خلاف عالمی میڈیا میں بھی بدعنوانی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔