190 ملین پاؤنڈ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے: ملک محمد احمد خان

 9 مئی کے دن ایک مشتعل ہجوم نے میانوالی کی کرمنل کورٹ سے ریکارڈ کو نذر آتش کیا:سپیکر 

لاہور (  سپیشل رپورٹر )   سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے 190 ملین پاؤنڈ کے کیس کو ایک ''اوپن اینڈ شٹ کیس'' قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں جرم واضح تھا، اور سزا دیوار پر لکھی ہوئی نظر آ رہی تھی،برطانوی کرائم ایجنسی این سی اے نے ایک متنازعہ ٹرانزیکشن کو روکا، اوراس پرپاکستان کا حق تسلیم کیا گیا، تاہم اس وقت کی حکومت نے اپنے مشیر شہزاد اکبر کو برطانیہ بھیجا، جہاں انہوں نے مختلف ملاقاتیں کیں، جس کے بعد یہ رقم ریاست کے اکاؤنٹ میں جانی چاہیے تھی، وہاں نہیں پہنچی۔ پریس کانفرنس کے دوران سپیکر ملک محمد احمد خان نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے یہ پیسے لیے تو قانونی طور پر یہ درست تھا کیونکہ کسی بھی متنازعہ رقم پر ریاست کو حق حاصل ہوتا ہے، لیکن اصل مسئلہ ان فنڈز کے غلط استعمال کا تھا۔ سپیکر ملک محمد احمد خان نے القادر ٹرسٹ کے معاملے کو ملکی تاریخ کا ایک بڑا جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ القادر ٹرسٹ کو زمین بطور تحفہ دی گئی، جو ایک بدترین مثال ہے۔ ملک محمد احمد خان نے 9 مئی کے واقعات پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس دن ایک مشتعل ہجوم نے مسجد کو جلایا، فوجی چھاؤنیوں پر حملے کیے اور میانوالی کی کرمنل کورٹ سے ریکارڈ کو نذر آتش کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہجوم نے فوجی وردیوں اور میڈلز کی بے حرمتی کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی کا گھر جلانا کسی کا سیاسی حق نہیں ہو سکتا اور نہ ہی فوج پر حملوں کو کسی بھی طور پر سیاست کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے