امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے افغان طالبان کے دہشت گردانہ اقدامات کے خلاف سخت اقدامات اور سفری پابندیوں کے نفاذ کی تفصیل فراہم کر رہی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق، افغان طالبان کی جانب سے جاری شدت پسند کارروائیوں اور دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی نے افغانستان کو بین الاقوامی سفری پابندیوں کا مرکز بنا دیا ہے۔ امریکی حکومت نے افغانستان کے لیے تمام امیگریشن چینلز بند کرنے کا اعلان کیا ہے، خاص طور پر افغان نژاد شہریوں، بشمول مترجمین، جنہیں اس سے قبل خصوصی امیگرنٹ ویزہ جاری کیا جاتا تھا، اب ان کے لیے حفاظتی استثنیٰ ختم کر دی گئی ہے۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، یہ اقدامات اس وقت تیز کیے گئے ہیں جب افغان نژاد رحمان اللہ لکنوال نے دو نیشنل گارڈ اہلکاروں پر فائرنگ کر کے ایک کی جان لے لی۔ اس واقعہ کے بعد امریکہ نے افغانستان سے متعلقہ امیگریشن، شہریت، اور گرین کارڈ کی درخواستیں بھی معطل کر دی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کا موقف ہے کہ ان ممالک میں شامل افغان شہریوں کے خلاف اسکریننگ اور معلومات کے تبادلے میں ناکامیوں کی وجہ سے یہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔عالمی سطح پر بھی، افغان طالبان کی دہشت گردانہ سرپرستی اور دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر، جرمنی نے پناہ گزین پروگرام معطل کر دیا ہے، برطانیہ نے سخت سفری ایڈوائزری جاری کی ہے، اور آسٹریلیا نے افغان شہریوں پر پابندیاں عائد کی ہیں اور کنبیرا میں موجود افغان سفارت خانہ بند کرنے کا عندیہ دیا ہے۔یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی منظم سرپرستی کر رہی ہے، جو خطہ اور عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔