طلعت بٹ
دیار غیر میں گزرا ہوا ایک ایک پل میرے لیے مشعل راہ کی طرح رہا ہے بہت کچھ پایا اور بہت کچھ ایسا دیکھا جسے شاید دنیا نے تو اپنایا مگر ہم نے گنوا دیا۔ سب سے اہم ایشو قانون اور انصاف کا ہے جو اسلام کے نام پر بننے والی ہماری ریاست میں ریٹنگ کے لحاظ سے کافی نیچے ھے۔ چونکہ مجھے یورپ میں تقریباً 45 برس ہو چکے ہیں مگر میں نے اس عرصے میں کوئی عدالتی فیصلہ غلط نہیں آتا دیکھا ، کیوں کہ قانون نافذ کرنے والے افراد اپنے ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے ہر کسی سے میانہ روی کے ساتھ پیش آتے ہیں اور قانون کی حد میں رہ کر مجرم کے ساتھ برتاؤ کرتے ہیں۔ بہر حال یورپ میں عدالتوں کے انصاف کا یہ عالم ہے کہ کوئی شخص جرم کرنے کے بعد عدالت میں اپنی سزا کا فیصلہ سن کر مطمین ہو جاتا ہے کیونکہ west میں عدلیہ رشوت یا سفارش سے پاک ہے اسطرح مجرم اپنا جرم بھی قبول کر لیتا ہے اور جج صاحبان کو زیادہ مشکل بھی پیش نہیں آتی۔ پولیس کا رویہ عوام کے ساتھ دوستانہ ماحول میں بہت ہی پر امن فضا میں کامیابی سے عمل میں آتا ہے اور بد نظمی کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوتا۔ ادارے عوام کی خدمت کے لئے دن رات بے لوث کام کرتے رہتے ہیں۔ کسی بھی ادارے میں رشوت کا نام و نشان ہی نہیں۔ بلکہ میں نے اداروں کو عوام کی مدد ہی کرتے دیکھا ہے۔ پورے یورپ میں پولیس کسی بھی مجرم پر تشدد نہیں کرتی اور نہ ہی ظلم کے ذریعے کسی کو جرم قبول کرواتی ہے۔ آپ یقین نہیں کریں گے کہ تھانے میں کوئی پولیس والا آپ کو ایک تھپڑ تک رسید نہیں کر سکتا اور ملزم کو کرسی پر بٹھا کر تفتیش کی جاتی ہے۔ وکیل اتنا اچھا مقدمہ لڑتا ہے کہ حج کو فیصلہ کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ کسی قسم کا دباؤ نہ پولیس کی طرف سے اور نہ ہی وکیلوں کی طرف سے دیکھنے کو ملتا ہے بلکہ سستا انصاف ہر شہری کو اس کی دہلیز پر دستیاب ہوتا ہے۔ یورپین معاشروں میں ملاوٹ اور جعلی مال کی فروخت پر اتنی سختی ہے کہ کسی کو ملاوٹ کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ ملاوٹ سے پاک اجزاء خورد و نوش بڑی آسانی سے ہر جگہ دستیاب ہوتی ہیں۔ مقرر کردہ نرخ نامہ کے مطابق لیں دین ہوتا ہے کسی شہری کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی اور رات دن بڑے امن و سکون سے کاروبار زندگی انجام پاتا ہے۔ شہروں کے علاوہ گاؤںمیں بھی میڈیکل اور تعلیم کی سہولیات ہر خاص و عام کو مہیا ہوتی ہیں۔ ہر طالب علم اپنے علاقے میں مفت تعلیم حاصل کرتا ہے یہاں کسی کو کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں بلکہ غریب عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات میسر ہوتی ہیں۔ کھاتا پیتا کا روباری طبقہ ٹیکس کی ادائیگی میں کوئی غفلت نہیں دکھاتا اور اسطرح یورپین عوام کی زندگی خوشحال ترین سطح پر گامزن ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں پر معیار زندگی بڑا high ہے اور ہر چیز دستیاب ہے۔ جو شہری کام کرتا ہے اس کی زندگی بہت پر سکون اور خوشحال ہے۔ میں نے آج تک کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو عدالت یا کسی ادارے کو برا بھلا کہتا ہو بلکہ ہر شہری اپنے گھر میں نہایت خوش اور مطمین نظر آتا ہے۔ ہفتے میں پانچ دن کام ہوتا ہے دو دن چھٹی ہوتی ہے ہفتہ اور اتوار کو لوگ خوب عیاشی کرتے ہیں اور اپنی زندگی کی ہر خواہش پوری کرتے ہیں۔ ٹریفک کا انتظام اتنا اعلی ہے کہ کسی شخص کو قانون توڑنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ ٹریفک پولیس رشوت سے پاک ہے یہاں تک کہ کسی کو رشوت دینے کی کوشش کریں تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ پولیس کے علاوہ کسی بھی محکمہ میں رشوت کا
کوئی ذکر نہیں ملتا بلکہ یہ لوگ تورشوت کو ایک بڑا جرم سمجھتے ہیں۔ یورپ میں تعلیم کا میعار اتنا اچھا ہے کہ ہر ایک بچہ سکول جاتا ہے اور ہر سکول میں نصاب ہر کسی کے لیے ایک جیسا ہوتا ہے اور یہاں سکولوں میں تعلیم کے علاوہ تربیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ بچوں کو اتنی اچھی تربیت ملتی ہے کہ آپ سوچنہیں سکتے۔ کیسی اچھی کار کردگی ہے۔ یہاں کے اساتذہ طالب علموں کو جدید علوم میں مہارت سکھاتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں تربیت کا تصور تک نہیں ملتا اسی وجہ سے ہمارے students تعلیم تو حاصل کرتے ہیں مگر تربیت سے نا آشنا ہی رہتے ہیں۔ ایک اور بات جو میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھی وہ یہ کہ یورپ میں مکینک یا مستری کالج میں بنتا ہے نا کہ۔ورکشاپ میں! اور یہاں طلبا ٹیکنیکل ایجو کیشن بورڈ میں باقائدہ ڈپلومہ حاصل کرنے کے بعد انجینئر ز بنتے ہیں اور مکینکل کا لجوں میں پریکٹیکل امتحانات کے بعد ڈگری حاصل کر کے اپنے مستقبل کو بہتر بناتے ہیں۔ یہ نظام اتنا اچھا ہے کہ کوئی بھی بچہ کسی بھی سکول میں کچھ بھی حاصل کر سکتا ہے اور آسانی کے ساتھ اپنی زندگی کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں ٹیکنیکل سکولوں کی کمی ہے جس کی وجہ سے ہم مستری یا۔(چھوٹا) سڑکوں پر یا بسوں کے اڈوں پر تیار کرتے ہیں۔ ایک اور بات جو میں نے مغربی ممالک میں دیکھی اور محسوس کی ہے وہ بڑی تشویش کی حامل ہے کہ مغربی ممالک میں بھیک مانگنے والے نہیں ملتے پورے یورپ میں کوئی بھی۔ بچہ بھیک نہیں مانتی کیونکہ ان کی تربیت اتنی اچھی ہوتی ہے کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی بچہ سڑکوں پر بھیک مانگتا ہوا نظر آئے۔ ان قوموں نے اپنی زندگی میں جو حقیقت
کا رنگ بھر دیا ہے وہ پوری دنیا کے سامنے ہے۔ اس کے علاوہ پورے یورپ میں بجلی پانی اور کیس کبھی بھی ختم نہیں ہوتا بھی اگر Off ہو جائے تو ایک دو منٹ میں دوبارہ بحال ہو جاتی ہے گیس آپ کو سستی اور ہمیشہ کیلئے روانی سے ملتی رہتی ھے اور اس کے علاوہ کھانے پینے میں پھل فروٹ اور سبزیاں اتنی سستی ہیں کہ ہر شہری آسانی سے خرید سکتا ہے۔ لوگ ڈسپلن میں اتنے اعلی ظرف ہیں کہ ہمیشہ ایک قطار میں اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں کوئی بھی شہری کسی سے سبقت حاصل نہیں کرتا کیونکہ ان کی تربیت ان کے سکوں میں ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ قومیں اپنے اخلاق اور دیگر معاملات میں بہت آگے نکل چکی ہیں۔ یورپ بھی دوسری دنیا کی طرح بہت کمزور حالت میں تھا ان کے مردوں اور عورتوں نے خودی میں دم پیدا کیا پھر سیاست اور مذھب کو اپنی زندگی سے الگ ایک مقام پر کھڑا کر دیا جس کی وجہ سے صنعتی انقلاب برپا ہوگیا اور عوام زندگی کی حقیقی خوشیوں سے آشنا ہوگئے اور ترقی کرتے ہوئے دنیا بھر میں انسانیت کی بقا کیلئے اچھا کرنے لگے اور آج یورپ کی رنگین راتوں کو دنیا بھر میں اعلی مقام حاصل ہے۔ ایک اور بڑی اہم چیز جو بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ پورے یورپ میں ہسپتالوں میں علاج فری ہوتا ہے اور دوائی وغیرہ بلکل فری دستیاب ہیں کسی مریض کو دوا کے لئے کوئی بھی مشکل پیش نہیں آتی ان ہسپتالوں میں خالص دوا اور اعلی خوراک بلکل فری مہیا کی جاتی ہے۔ کسی شہری کو بازار سے کچھ بھی لانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ سب کچھ جو میں نے بیان کیا ہے میرا ذاتی مشاہدہ ہے کوئی سنی سنائی بات نہیں۔ west کے بارے میں جو غلط فہمیاں ہیں۔ آج سے دور کر لیں
آپ یقین کریں اگر دنیا میں جنت کا نظارہ کرنا ہو تو کچھ وقت یورپ میں گزاریں آپ کو جنت الفردوس کی جھلک محسوس ہوگی۔ ہم لوگ بھی موجود تو ہیں اسی دنیا میں مگر ہمارے لوگ سیاست اور مذھب کے سایہ تلے آج بھی خوشحالی کسی دوسری دنیا کے خواب دیکھ رہے ہیں مگر یہ نہیں سمجھتے کہ زوال پذیر ممالک کو کیسے اس ماحول سے باہر لانا ہوگا اور فرد کی خوشحالی اور ترقی کا راز تعلیم و تربیت اور قانون کے احترام کے حقیقی
عمل درآمد کا نتیجہ ہیں۔ اس پر بات ہو گی کسی انگھے کالم میں آج اسی پر اکتفا کرتے ہوئے نیک مشوروں کے ساتھ حاضر خدمت فقط ایک پر دیسی۔۔۔۔