چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے گھوٹکی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ کے اہم مسائل اور ججز کے کام کے حوالے سے اپنی بات رکھی۔
انہوں نے کہا کہ ججز کے لیے تالیاں نہ بجائیں، کیونکہ اس سے تسلی پیدا ہوتی ہے جو کہ انسان کی کارکردگی اور سوچ کو متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے یہ تشویش ظاہر کی کہ اس طرح کی تسلی ججز کو ان کی ذمہ داریوں میں لاپرواہ بنا سکتی ہے، اور انہوں نے کہا کہ ججز کو محض اپنی کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے اور بیرونی اثرات سے بچنا چاہیے۔چیف جسٹس آفریدی نے مزید کہا کہ وہ جلد بار ایسوسی ایشنز کے تمام تحفظات دور کرنے کی کوشش کریں گے اور اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ انہوں نے جو کمٹمنٹ کی ہے وہ اسے ضرور پورا کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے سندھ کے چیف جسٹس کی جانب سے گھوٹکی بار کے مسائل سے آگاہ کرنے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
عدلیہ کے تقدس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کی عزت و توقیر کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا، اور ان کے ادارے کے حوالے سے کسی بھی قسم کی بدگمانی یا غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے گھوٹکی کی عدلیہ کی حالت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ضلع گھوٹکی خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع سے بہتر ہے اور یہاں کے عدالتی نظام کی حالت کو سراہا۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہوں نے عدالتوں میں عملے کی کمی اور دیگر مسائل پر بھی بات کی، اور ان کا وعدہ تھا کہ ان مسائل کو جلد حل کیا جائے گا۔
اس ملاقات میں چیف جسٹس نے ایک واضح پیغام دیا کہ عدلیہ کی جانب سے بہتر حکمت عملی، اور اصلاحات کے ذریعے بار ایسوسی ایشنز اور عوامی سطح پر اعتماد کو بڑھایا جائے گا۔