ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
حقیقی طاقت وہ نہیں جو شہر تباہ ہونے کے بعدسامنے آئے؛حقیقی طاقت وہ ہے جوشہرکوتباہ ہونے سے بچالے۔حقیقی کامیابی گولی چلانے میں نہیں بلکہ بعض اوقات گولی چلنے سے روک دینے میں ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ سے وابستہ اس دفاعی تصورکوکسی دشمن کے خلاف تلواراٹھانے کے اعلان کے بجائے امن اوربازدارقوت کے ایک ممکنہ نظام کے طورپردیکھنازیادہ دانش مندانہ ہو گا۔لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیداہوتاہے کیامسلم دنیاکی طاقت صرف فوجی تعاون سے تعمیرہوسکتی ہے؟اس کاجواب یقینانفی میں ہے۔
آج قومی طاقت کامفہوم بہت وسیع ہوچکاہے۔معیشت،توانائی،سفارت کاری،جغرافیہ،انٹیلی جنس،تعلیم،تحقیق،ٹیکنالوجی،مضبوط ادارے اور باہمی اعتمادسب مل کرکسی قوم کی حقیقی طاقت بناتے ہیں۔اگرکسی ملک کے پاس جدیدہتھیارہوں لیکن اس کی معیشت بیرونی فیصلوں کی محتاج ہو،اگراس کے پاس جنگی جہازہوں مگر اپنی ٹیکنالوجی تیارکرنے کی صلاحیت نہ ہو،یااگراس کے نوجوان صرف صارف ہوں اورتخلیق کارنہ بن سکیں تواس کی دفاعی خودمختاری ہمیشہ محدود رہے گی۔یہیں اقبال کاپیغام ہمارے نوجوانوں کیلئے غیرمعمولی اہمیت اختیار کرلیتاہے۔اقبال نے کہا تھا:
افرادکے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہرفردہے ملت کے مقدرکاستارہ
قوموں کامستقبل صرف سرحدوں پرکھڑے سپاہیوں کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ایک سائنس دان،انجینئر،استاد،محقق،معیشت دان،سافٹ ویئر ڈویلپر،صنعت کار،دیانت دار سرکاری افسراورذمہ دارصحافی بھی قومی سلامتی کے وسیع ترنظام کاحصہ ہوتے ہیں۔اگرمسلم دنیاکوحقیقی معنوں میں خودکفیل بنناہے تواسے اپنی یونیورسٹیوں کوعلم پیداکرنے کے مراکز بناناہوگا۔اسے تحقیق،مصنوعی ذہانت،سائبرٹیکنالوجی، دفاعی صنعت،توانائی،بایوٹیکنالوجی،جدیدانجینئرنگ اورڈیجیٹل معیشت میں سرمایہ کاری کرناہوگی۔نوجوانوں کومحض ماضی کی عظمت کے قصے سناناکافی نہیں؛انہیں مستقبل کی عظمت تعمیرکرنے کی صلاحیت بھی دیناہوگی۔اقبال کے نزدیک مسلمان کی عظمت صرف شجاعت میں نہیں بلکہ صداقت اور عدالت میں بھی پوشیدہ ہے
سبق پھرپڑھ صداقت کا،عدالت کا،شجاعت کا
لیاجائے گاتجھ سے کام دنیاکی امامت کا
یہ ترتیب انتہائی معنی خیزہے۔شجاعت سے پہلے صداقت اورعدالت کاذکرہمیں یاددلاتاہے کہ طاقت اگراخلاق،انصاف اورکردارسے خالی ہوتووہ اسلامی تصورِقوت نہیں رہتی۔ اسی لیے کسی بھی مسلم دفاعی تعاون کامقصدغلبہ،جارحیت یادوسروں کوخوفزدہ کرنانہیں ہونا چاہیے۔اس کی بنیادامن،خود مختاری،دفاع، باہمی احترام اوراجتماعی ذمہ داری پرہونی چاہیے۔
مکہ مکرمہ کی علامتی اہمیت بھی اس تصورکوایک منفردمعنویت دیتی ہے۔حرم وہ مقام ہے جہاں رنگ،زبان،قومیت اورجغرافیہ پیچھے رہ جاتے ہیں اورپوری امت ایک قبلے کی طرف کھڑی ہوتی ہے۔پاکستانی،ترک،عرب،افریقی،ایشیائی اوریورپی مسلمان ایک ہی صف میں اپنے رب کے سامنے حاضرہوتے ہیں۔یہ منظراپنے اندرایک بڑاسوال رکھتاہے اگر ہم عبادت میں ایک قبلے کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں توعلم،ٹیکنالوجی،معاشی ترقی اور اجتماعی سلامتی کے میدان میں ایک دوسرے کی قوت کیوں نہیں بن سکتے؟یہ اتحادیکسانیت کامطالبہ نہیں کرتا۔پاکستان کوترکی بننے کی ضرورت نہیں، ترکی کو سعودی عرب بننے کی ضرورت نہیں اور سعودی عرب کوپاکستان بننے کی ضرورت نہیں۔اصل ضرورت یہ ہے کہ ہر ملک اپنی بہترین صلاحیت کومشترکہ استحکام میں تبدیل کرے۔پاکستان اپنادفاعی تجربہ لائے،ترکی اپنی جدید ٹیکنالوجی،سعودی عرب اپنی اقتصادی قوت؛اوردوسرے مسلم ممالک اپنی تحقیق،صنعت، توانائی،سرمایہ،جغرافیائی اہمیت اورانسانی وسائل کواس وسیع ترعلمی اوراقتصادی تعاون کاحصہ بنائیں۔
مگراس خواب کی کامیابی حکومتوں کے معاہدوں سے زیادہ نوجوان نسل کے کردارپرمنحصرہوگی۔آج مسلم نوجوان کوفیصلہ کرناہوگاکہ وہ صرف دنیاکی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی استعمال کرے گایاخودبھی ٹیکنالوجی پیداکرے گا؛وہ دوسروں کی تحقیق پڑھے گایاایسی تحقیق کرے گاجسے دنیاپڑھے؛وہ صرف روزگارتلاش کرے گایاایسے ادارے قائم کرے گاجودوسروں کیلئے روزگارپیداکریں؛وہ فرقوں، قومیتوں اورداخلی تقسیم میں اپنی توانائی ضائع کرے گایاعلم اورتعمیر کواپنی پہچان بنائے گا۔اقبال کانوجوان ماضی کی عظمت پرصرف فخرنہیں کرتا،وہ مستقبل کی عظمت تعمیر کرتا ہے۔یہی شایدپاکستان،سعودی عرب اورترکی کے بڑھتے ہوئے تعاون کاسب سے بڑاممکنہ پیغام بھی ہے۔مسلم دنیاکو اپنی سلامتی کی ذمہ داری صرف بندوق کے ذریعے نہیں بلکہ علم،معیشت،ٹیکنالوجی،کرداراورباہمی اعتمادکے ذریعے اٹھانی ہوگی۔
تاریخ کے دریچے سے جب قومیں اپنے ماضی کی طرف دیکھتی ہیں توانہیں صرف فتوحات اورشکستیں دکھائی نہیں دیتیں؛انہیں وہ لمحے بھی دکھائی دیتے ہیں جب ایک فیصلہ نسلوں کی تقدیربدل گیا،جب ایک چراغ نے صدیوں کے اندھیرے کوللکارا،اورجب چند بیداردلوں نے زمانے کی گردش کونئی سمت دے دی۔آج مسلم دنیابھی شایدایسے ہی ایک سنگِ میل کے سامنے کھڑی ہے۔مکہ کی سرزمین سے اٹھنے والاوحدت کاپیغام ہمیں یاددلاتاہے کہ حرم کی اصل حرمت صرف اس کے میناروں،دروازوں اوردیواروں میں نہیں؛اس روح میں ہے جورنگ، نسل،قومیت اورجغرافیے کی دیواریں گراکرانسانوں کوایک صف میں کھڑاکردیتی ہے۔مکہ معاہدہ اسی علامتی حقیقت کوعلم،ٹیکنالوجی،معیشت اوراجتماعی سلامتی تک وسعت دیتاہے۔
مگرکسی ملت کامقدرصرف معاہدوں کی روشنائی سے نہیں لکھاجاتا۔اس کیلئے نوجوانوں کے ماتھوں کاپسینہ،سائنس دانوں کی راتیں، محققوں کی جستجو،استادکی امانت،انجینئرکی مہارت ، صنعت کارکی بصیرت اورکرداروالے انسان کی استقامت درکارہوتی ہے۔قومیں اس وقت زندہ ہوتی ہیں جب ان کے نوجوان دوسروں کی ایجادات پرحیران ہونے کی بجائے خودایجادکرناسیکھیں،دوسروں کی تحقیق پڑھنے کے ساتھ ایسی تحقیق بھی تخلیق کریں جسے دنیاپڑھنے پرمجبورہو،اورمحض روزگارکے دروازے کھٹکھٹانے کی بجائے ایسے ادارے قائم کریں جن کے دروازوں سے دوسروں کے رزق کے راستے نکلیں۔
اقبال نے اسی لیے فردکوملت کی تقدیرکاستارہ کہاتھاکیونکہ ایوانوں میں ہونے والے فیصلے اپنی جگہ،مگرقوموں کی اصل تقدیردرس گاہوں،تجربہ گاہوں،کارخانوں،جامعات،تحقیقی مراکز اورنوجوانوں کے سینوں میں پروان چڑھتی ہے۔خودی کاچراغ جب علم کے تیل، کردارکی لواورعمل کی حرارت سے جلتاہے توقومیں دوسروں کے سایوں میں پناہ ڈھونڈنے کی بجائے اپناسایہ خودپیداکرتی ہیں۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا باہمی تعاون اگر صرف دفاعی ضرورت کے لمحاتی تقاضوں تک محدود نہ رہے، بلکہ تحقیق، سائبرصلاحیت،مصنوعی ذہانت،صنعت،معیشت،تربیت ، تعلیم اورٹیکنالوجی کے ایک وسیع تراشتراک میں ڈھل جائے،توشایدیہ کسی نئے عسکری بلاک سے کہیں بڑھ کرایک نئی فکری بیداری کاآغازبن سکے۔ایسی بیداری جس کی بنیاد جارحیت نہیں،بازدارقوت ہو؛غلبہ نہیں،وقارہو؛خوف نہیں،امن ہو؛اورطاقت کے ساتھ صداقت وعدالت بھی ہم سفرہوں،اورپھرشایدحرم کی پاسبانی کامفہوم بھی ہمارے سامنے پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہوجائے۔
حرم کی پاسبانی یہ ہے کہ ہماری سرحدیں محفوظ ہوں،مگرہمارے ضمیربھی زندہ ہوں۔ہمارے ہاتھ مضبوط ہوں،مگرہمارے دل انصاف سے خالی نہ ہوں۔ہماری افواج طاقتورہوں ،
مگر ہماری جامعات بانجھ نہ ہوں۔ہماری معیشتیں وسیع ہوں،مگرہماری فکرغلام نہ ہو۔ہماری ٹیکنالوجی جدیدہو،مگرہماراکردارماضی کے کھنڈروں میں دفن نہ ہو۔یہ وہ منزل ہے جہاں اقبال کاخواب،حرم کی وحدت اورجدیدمسلم دنیاکی ذمہ داری ایک ہی نقطے پرآکرملتی ہیں۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لے کرتابخاکِ کاشغر
صدیاں گزرگئیں،مگریہ صداآج بھی وقت کے ایوان میں گونج رہی ہے۔اب سوال یہ نہیں کہ ہمارے آبااجدادنے تاریخ کے اوراق پرکیالکھاتھا۔سوال یہ بھی نہیں کہ دنیاہمارے بارے میں کل کیالکھے گی۔اصل سوال یہ ہے کہ جب آنے والی نسلیں ہمارے عہدکاورق پلٹیں گی توکیاانہیں ایک ایسی نسل نظرآئے گی جواختلافات کے گرداب میں اپنی قوت کھو بیٹھی تھی اوہ ایک ایسی نسل کودیکھیں گی جس نے علم کواپنی شمشیر،کردارکواپنی ڈھال،اتحادکواپنی قوت اور خودی کواپناچراغ بنالیاتھا؟
تاریخ کاقلم ابھی خشک نہیں ہوا،کتاب ابھی بند نہیں ہوئی،کچھ صفحات ابھی سفیدہیں اورشایدتقدیرنے وہ صفحات ہمارے ہی ہاتھ میں دے دیے ہیں۔قوتِ عمل منتظرہے: اب فیصلہ ہمیں کرناہے کہ ہم تاریخ کے حاشیے پرلکھی جانے والی نسل بنیں گے،یااپنے عزم،علم اورکردارسے تاریخ کانیا باب رقم کریں گے؟