سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
آج کاد ن صرف ایک تاریخ کانشان نہیںبلکہ ایک روحانی اورفکری جشن ہے۔آج کادن محض ایک تاریخ کانشان نہیں،بلکہ ایک روحانی اورفکری جشن ہے۔آج کادن صرف ہمارے ملک کے جغرافیائی وجودکی خوشی کاوہ دن ہے جومسلمانوں کی قربانیوں، استقلال اوراتحادکی بدولت ممکن ہوا۔پاکستان ایک معجزہ ہے،جسے اللہ تعالی نے ہمارے لیے مقدر فرمایا،اوریہ معجزہ صرف ہمارے اہل ایمان کیاتحاداورقربانی کی بدولت ممکن ہوا۔پاکستان،یہ معجزاتی ریاست،صرف سرزمین کی بنیادپرنہیں بلکہ قربانی، اتحاد،اوراسلامی شعورکی بنیاد پروجودمیں آئی۔ہرگوشہ،ہرپتھر،ہرگلی ہمیں یاددلاتی ہے کہ یہاں ایک خواب حقیقت میں بدلا پاکستان صرف ایک سرزمین نہیں، بلکہ ایک معجزہ ہے،جس کی بنیادقرآن وسنت کے اصولوں،اقبال کے نظریات اورقربانی کے جذبے پررکھی گئی ایک خواب اورپیش گوئی، قائداعظم کی قیادت اورلاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کاثمرہے۔اقبال فرماتے ہیں:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
یہ صرف ایک شعرنہیں،بلکہ ایک عملی اصول ہے جوہمیں یاددلاتاہے کہ ہرمسلمان کی اولین ذمہ داری اس کے ایمان،تہذیب اور وطن کی حفاظت ہے۔یہ ذمہ داری صرف ایک فوجی فرض نہیں،بلکہ علم،اخلاق اوربصیرت کی بنیادپربھی لازم ہے۔یہ محض الفاظ نہیں یہ ایک عملی اصول ہے۔ہرمسلمان کی ذمہ داری ہے۔یہ شعرنہیں،بلکہ ایک عملی اصول ہمیں یاددلاتا ہے کہ ہرپاکستانی کی اولین ذمہ داری ایمان،تہذیب اوروطن کی حفاظت ہے۔یہ ذمہ داری صرف فوج کی ہی نہیں بلکہ علمی،اخلاقی،اورفکری طورپربھی لازمی ہے۔آج کادن، پاکستان کی عظمت اوربقاکی یاددلاتاہے،جب ایک قومی جذبے اورمسلم اتحادنے تاریخ کے صفحات میں روشن باب رقم کیا۔علامہ اقبال کے یہ محض الفاظ نہیں بلکہ ایک ایسی فرماں برداری اورقربانی کی پکارہے جوہرمسلمان کے دل میں زندہ رہنی چاہیے۔
پاکستان کی بنیادایک طویل اورصبروتحمل کی جدوجہدکے بعدرکھی گئی۔مسلمانوں نے اپنے مذہبی،ثقافتی اورسیاسی حقوق کی خاطرقربانی دی۔برصغیرکے مسلمانوں نے صدیوں تک اپنی پہچان کیلئے جدوجہدکی۔آزادی کی راہیں خون سے سینچی گئیں برصغیرکے مسلمانوں نے اپنے مذہبی،ثقافتی اورسیاسی حقوق کیلئے جدوجہد کی۔یہ وہ قوم تھی جوقرآن کی تعلیمات پرعمل کرتے ہوئے اپنی پہچان کومحفوظ رکھناچاہتی تھی۔ہمیں یادرکھناچاہیے کہ پاکستان صرف ایک جغرافیائی حدودنہیں،بلکہ ایک نظریہ،ایک معجزہ ہے،جسے قرآن کریم نے ہمارے لیے مقدرفرمایالیکن قرآن کی تعلیمات کے مطابق ہمیں کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ قرآن کریم نے ہمیں اتحادکی اہمیت بتائی ہے: اللہ کے رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور بٹو نہ۔ یہی رسی ہمیں ایک قوم اورایک مقصد میں باندھتی ہے۔
یہ اتحادہی ہمیں مضبوط بناتاہے،اورہمیں یاددلاتاہے کہ ہماری طاقت،ہماری شناخت،اورہماری بقااسی میں مضمرہے۔ہماری طاقت، ہماری شناخت،اورہماری بقااسی اتحادمیں مضمرہے۔پاکستان اسی اتحاد کی صورت میں ایک حقیقت بن کرہمارے سامنے آیا۔یہ اتحاد کی طاقت تھی جس نے ہمیں غلامی کے سائے سے نکال کرایک روشن مستقبل کی طرف گامزن کیا۔پاکستان صرف سرزمین نہیں، بلکہ ایک نظریاتی مشعل راہ اورایک اخلاقی فرض ہے۔
تاریخ کابانکپن،فکری تمکنت اور لسانی آراستگی کاحسین امتزاج ایک ایسے سبق کی طرح ہے جس کاازبریادرہناہماری ذمہ داریوںشامل ہے۔موجودہ حالات سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ آزادی کاتحفظ فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ علم،اخلاق اوربصیرت کاساتھ بھی ضروری ہے۔قوم کی بقاکارازصرف سرزمین میں نہیں،بلکہ علم،تربیت اوراخلاق میں مضمرہے ۔قوم کی بقااورعظمت آزادی کی راہوں کوروشنی بخشتے ہیں۔قومیں صرف زمین پرنہیں جیتی جاتی،بلکہ دلوں،ذہنوں اورروحوں میں بستی اورزندہ رہتی ہیں۔ یہ ہمیں یاددلاتاہے کہ ہرفرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی شعورکوزندہ رکھے۔
ہمیں یہاں یہ بھی یادرکھناچاہئے کہ قوم کی بقاکیلئیصرف دفاع کی ضرورت کے ساتھ ثقافت،ادب اورزبان کی حفاظت بھی اتنی ہی ضروری ہے کیونکہ علم وادب کے چراغ جلانے سے قوم کی روح زندہ رہتی ہے۔قوم وہ ہے جواپنی زبان کی مٹھاس اورادب کی روشنی سے زندہ رہے۔یعنی ہمارے افواج کے ساتھ ساتھ،ہماراادب،ہماری زبان،اورہماری تہذیب بھی وطن کی حفاظت کاایک مضبوط حصہ ہیں۔اگرہم اپنی تہذیب کوبھی بچانے کی فکرکریں تودشمن کبھی ہمیں کمزورنہیں کرسکتا۔اس لئے ضروی ہے کہ ان دنوں سوشل میڈیاپر دشمن کی پھیلائی باتوں کایقین کرنے کی بجائے ان کی سازشوں سے باخبررہیں کہ اس حالیہ پاک بھارت جنگ کے بعددشمنوں کی توپوں کارخ سوشل میڈیاپرہماری نوجوان نسل کو اپنی ہی فوج کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ میں شب وروزکام کررہاہے تاکہ وہ کسی طریقے سے اپنی شکست اورہزیمت کابدلہ لے سکیں۔یادرکھیں کہ ہماراادب،ہماری زبان،اور ہماری ثقافت وطن کی حفاظت کانہ صرف ایک مضبوط حصہ ہیں بلکہ آج بھی ہمارے لئے چراغِ راہ ہیں۔
جیساکہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی بنیادایک اسلامی نظریے پررکھی گئی۔پاکستان ایک اسلامی ریاست کے طورپروجودمیں آیا،اوراس کی بقاکادارومدار ایمان،اتحاد اور اسلامی اصولوں پرہے۔قرآن کی تعلیمات کے مطابق ہرمسلم کافرض ہے کہ وہ اسلام دشمن قوتوں سے خبرداررہے،اپنی زندگی اورقوم کواللہ کی رضاکے مطابق سنوارے۔یادرکھیں کہ فتح وکامیابی اللہ کی طرف سے ہے،اور اس کیلئیہمیں اپنی جان ومال،علم اورکردارکومضبوط کرناہوگا۔ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی زندگی،کرداراوراعمال کے ذریعے اسلام دشمن قوتوں سے خبرداررہیں اورپاکستان کوایک مضبوط،اسلامی نظریہ پرقائم رہنے والاملک بنائیں۔اسلام دشمن قوتوں سے خبرداررہنا،اپنے کردار،اپنی نظریاتی اوراخلاقی تربیت کو مضبوط کرنا،اوراپنی زندگی کودینی اصولوں کے مطابق ڈھالناہرمسلمان کی ذمہ داری اورہمارے فرض کاحصہ ہے۔
حال ہی میں ہماری افواج نے شجاعت،اتحاداورایمان کے ذریعے دشمن کے عزائم کوخاک میں ملادیا۔یہ فتح صرف فوجی طاقت کی نہیں،بلکہ قومی اتحاد،ملی جذبہ،قربانی اوراللہ پر یقین اورایمان کی بدولت حاصل ہوئی۔ہمارے شہداکی قربانی ہمیں یاددلاتی ہے کہ پاکستان کی حفاظت ہرفردکی ذمہ داری ہے۔ان کی قربانی ہمیں یاددلاتی ہے کہ قومیں شہدا کے خون سے جنم لیتی ہیں اور قربانی سے زندہ رہتی ہیں۔ قرآن فرماتا ہے:فتح صرف اللہ کی طرف سے ہے
ہمیں یادرکھناہوگاکہ دشمن کبھی بھی غافل نہیں ہوتا۔لہذاہمیں نہ صرف فوجی،بلکہ اقتصادی،تعلیمی اورفکری محاذپربھی مضبوط رہناہوگا۔ہرشہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ذاتی اورقومی زندگی میں اسلام کی تعلیمات کواپنائے اوراپنی سرزمین کی حفاظت کرے۔ہم نے اقبال کے فلسفے سے سیکھاہے کہ خودی،اتحاداورقربانی ہی قوم کومضبوط بناتے ہیں۔یعنی ہرفردکی ذاتی اوراجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ وطن اوردین کی حفاظت کرے۔اس لیے نہ صرف فوج بلکہ ہرشہری کواقتصادی،تعلیمی،اورفکری محاذپر مضبوط رہناہوگا۔ہمیں یادرکھناچاہیے کہ مسلمان کی سب سے بڑی طاقت اس کااتحادہے۔ہرشہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کوپہچانے اوراسلام کی حفاظت میں اپناکرداراداکرے۔ پاکستان ایک معجزاتی ریاست ہے۔ قرآن نے فرمایا:کسی بات کے جواب میں خدااوراس کے رسول سے پہلے نہ بول اٹھاکرواورخداسے ڈرتے رہو۔بیشک خداسنتاجانتاہے۔
مومنو:ہمیں اپنے اعمال اورقربانیوں میں اللہ کی رضاکومقدم رکھناہے۔پاکستان کی سرزمین پرہم نے اللہ کی مددسے اپنی تقدیرخودلکھی۔ یہاں اسلامی اصولوں کے مطابق معاشرہ قائم کرناہے،اورہمیں اس کی حفاظت کرنی ہے۔ہمیں اپنے اعمال اورقربانیوں میں اللہ کی رضاکومقدم رکھناہے۔یہ نعمت ہمیں یاددلاتی ہے کہ وطن کی حفاظت اورترقی ہرمسلمان کی مقدس ذمہ داری ہے۔آج،اس یومِ آزادی پر،ہمیں اقبال کے اس شعر کوصرف یادنہیں کرنابلکہ عملی زندگی میں اسے نافذکرناہوگا،ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے!
قوموں کی زندگی میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جووقت کی گردمیں چھپ نہیں سکتے،جوصدیوں کے اندھیروں میں چراغِ راہ بن کر جگمگاتے رہتے ہیں۔جب تاریخ کے اوراق پرنگاہ دوڑائی جاتی ہے توکچھ دن محض دن نہیں رہتے،وہ ایک عہدکی پہچان،ایک خواب کی تعبیراورایک قوم کی روحانی بیداری بن جاتے ہیں۔پاکستان کایومِ آزادی بھی ایساہی دن ہے یہ دن محض جغرافیائی آزادی کانہیں،بلکہ ایمان،قربانی،اوروحدت کی صداکادن ہے۔یہ محض ایک تقویمی تاریخ نہیں بلکہ ایک فکری بیداری،ایک روحانی انقلاب،اورایک سیاسی معجزہ ہے۔
یہ دن ہمیں یاددلاتاہے کہ اللہ کی مشیت جب کسی قوم کے ساتھ ہوتوغلامی کی زنجیریں ٹوٹ جاتی ہیں،اورایک ایسی مٹی جنم لیتی ہے جومعجزے کی مانند تاریخ کے سینے میں ہمیشہ روشن رہتی ہے۔یہ وہ دن ہے جب غلامی کی زنجیریں ٹوٹیں،جب ایک خواب حقیقت میں ڈھلا،اورجب دنیانے دیکھاکہ ایمان اورقربانی سے مسلح قومیں کس طرح تاریخ کادھارا موڑ دیتی ہیں۔پاکستان صرف ایک جغرافیہ نہیں، بلکہ ایک نظریہ ہے۔(جاری ہے)