ویب ڈیسک: غزہ میں جاری جنگ کے نئے مرحلے کے خلاف اسرائیلی شہریوں اور یرغمالیوں کے اہل خانہ نے ملک گیر ہڑتال کا آغاز کیا ہے۔
ہڑتال میں حکومت کے غزہ پر حملے اور جنگ کو وسعت دینے کے فیصلے کی شدید مذمت کی گئی۔ہڑتال سترہ اگست کو صبح شروع ہوئی اور ملک بھر میں 400 مقامات پر مظاہروں اور احتجاجی کارروائیوں کے ساتھ دن بھر جاری رہی۔ تل ابیب میں کریا فوجی ہیڈکوارٹر کے سامنے اکتوبر کونسل کی طرف سے ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں ہڑتال کا رسمی آغاز کیا گیا۔ہڑتال میں ہزاروں کاروباری اداروں، مقامی حکام اور کچھ یونینوں نے شرکت کی۔ تل ابیب میں یرغمالیوں کے اسکوائر پر ایک ملین افراد کی آمد متوقع ہے۔اہل خانہ حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے ایک جامع معاہدہ کرے تاکہ باقی 50 یرغمالیوں کو رہا کیا جا سکے، جن میں کم از کم 20 ابھی زندہ ہیں۔ نووا میوزک فیسٹیول میں مارے جانے والے امریکی-اسرائیلی لوٹن کی والدہ نومی عبیر نے کہا، "ہم اسرائیل کی حکومت سے چاہتے ہیں کہ وہ ایک جامع معاہدے کے لیے ایک اسرائیلی خاکہ پیش کرے۔"لیشے میران لاوی، جن کے شوہر عمری غزہ میں قید ہیں، نے کہا، "یہ صرف شروعات ہے۔ ہم جدوجہد کو تیز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔"
اسرائیل کی حکومت غزہ شہر کے وسطی علاقوں میں موجود تقریباً دس لاکھ افراد کو جنوب کی جانب کیمپوں میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تاہم اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کارروائی کب تک مکمل ہوگی۔ اسرائیلی فوج نے انخلا کے لیے وارننگ اور ڈیڈ لائن دے دی ہے، لیکن وہاں موجود افراد زیادہ تر انخلا کے لیے تیار نہیں ہیں۔حماس نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی فوج یرغمالیوں کے قریب پہنچتی ہے تو وہ انہیں ہلاک کر سکتے ہیں۔ اس خدشے کے سبب اسرائیلی شہری جنگ کے نئے مرحلے کے دوران یرغمالیوں کی ممکنہ ہلاکت سے بچاؤ کے لیے مذاکرات کے مکمل ہونے کا مطالبہ کئی ماہ سے کر رہے ہیں۔ مصر کی سرحد کے نزدیک ایک پناہ گاہ کے واقعہ میں اسرائیلی فوج کی آمد پر حماس کے زیرقبضہ پانچ یرغمالی مارے جا چکے ہیں، جس کے بعد حکومت پر شدید تنقید ہوئی اور مذاکرات کے ذریعے یرغمالیوں کی واپسی کو واحد حل قرار دیا جانے لگا۔