پنجاب حکومت کا اوور لوڈنگ کے خلاف شکنجہ سخت، جرمانوں میں نمایاں اضافہ تجویز

پنجاب حکومت کا اوور لوڈنگ کے خلاف شکنجہ سخت، جرمانوں میں نمایاں اضافہ تجویز

لاہور (ویب ڈیسک):پنجاب حکومت نے قومی شاہراہوں پر اوور لوڈنگ کرنے والی گاڑیوں کے خلاف شکنجہ سخت کرنے کے لیے بڑا قدم اٹھا لیا۔

 جرمانوں میں اضافے سے متعلق "دی صوبائی موٹر گاڑیاں ترمیمی ایکٹ 2025" پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے۔اس بل کے تحت "صوبائی موٹر گاڑیاں آرڈیننس 1965" میں ترامیم کی جائیں گی تاکہ تمام لوڈر گاڑیوں کی الگ الگ تعریف اور ان پر لاگو جرمانوں کی نئی حدیں متعین کی جا سکیں۔ فی الحال، 1965 کے ایکٹ میں تمام لوڈر گاڑیوں کو ایک ہی زمرے میں شمار کیا جاتا ہے، اور جرمانہ صرف 100 سے 500 روپے تک محدود ہے۔

نئے بل کی نمایاں تجاویز:
دو ایکسل گاڑی پر پہلی بار اوور لوڈنگ پر جرمانہ: 2,000 سے 7,000 روپے
دوسری بار خلاف ورزی پر: 4,000 سے 14,000 روپے
تین اور چار ایکسل گاڑی پر پہلی بار خلاف ورزی پر: 5,000 سے 20,000 روپے
دوسری بار خلاف ورزی پر: 10,000 سے 35,000 روپے
چار ایکسل سے زائد گاڑی پر پہلی بار خلاف ورزی پر: 7,000 سے 25,000 روپے
دوسری بار خلاف ورزی پر: 12,000 سے 25,000 روپے
سخت سزائیں بھی شامل
بل کے تحت سخت سزا کے طور پر ایک ماہ قید، صرف جرمانہ یا دونوں دیے جانے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ لوڈر گاڑیوں کے لیے پرمٹ کے ساتھ فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

بل کی موجودہ حیثیت:
ترمیمی بل کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے، جو دو ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرے گی۔ بعد ازاں کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں یہ بل اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

حکومتی مؤقف:
بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ اوور لوڈ گاڑیاں سڑکوں کے انفراسٹرکچر کو اربوں روپے کا نقصان پہنچاتی ہیں، اور 1965 کے ایکٹ میں مجوزہ ترامیم وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہیں۔